بش، کیری دوسرا راؤنڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدارتی انتخابات سے پہلے مباحثے ایک روایت بن چکی ہے جس کا آغاز 1858 میں صدر لنکن اور سٹیفن ڈگلس کے درمیان غلامی کے معاملے پر بحث سے شروع ہوا تھا۔ موجودہ انتخاب کا شہر سینٹ لوئیس کی واشنگٹن یونیورسٹی میں ہونے والا دوسرا مباحثہ سخت مناظرے کی شکل اختیار کر گیا جس میں سینیٹر کیری اور صدر بش نے ایک دوسرے پر بھرپور وار کیے۔ صدر بش گزشتہ مباحثے میں کمزور ہونے کی وجہ سے خاصی تگ و دو کر رہے تھے کہ وہ اس مقابلے میں سینیٹر کیری کو نیچا دکھا سکیں۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس مناظرے میں کون جیتا اور کون ہارا لیکن پاکستانی ووٹروں کے ایک مختصر سے گروہ سے بات چیت کرنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کو سینیٹر کیری کی ادائیگی اور ان کے خیالات پسند آئے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی ضرور کہی جا سکتی ہے کہ صدر بش کی ادائیگی پہلے مباحثے کے مقابلے میں خاصی بہتر تھی۔ دونوں صدارتی امیدوار مجلس یا ٹاؤن ہال جلسے میں عام ووٹروں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ ان ووٹروں کا انتخاب سروے کرنے والے گروپ گیلپ پول نے کیا تھا۔ حسب توقع عراق کا موضوع مباحثے کا مرکز رہا۔ سینیٹر کیری صدر بش کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے اور صدر بش، کیری کو موقع پرست سیاستدان۔ سینیٹر کیری، صدر بش پر بار بار الزاام لگاتے رہے کہ ان کے اپنے قائم کیے ہوئے کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صدر صدام حسین کے پاس مہلک ہتھیار تھے اور نہ ہی ان میں ہتھیار بنانے کی صلاحیت باقی رہی تھی۔ عراق پر عائد معاشی پابندیاں مؤثر تھیں اور اگر اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو مہلت دی جاتی تو شاید امریکہ کو حملے کی ضرورت نہ پڑتی۔ سینیٹر کیری کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ اگر امریکہ صبر سے کام لیتا تو اس کے سابقہ اتحادی امریکہ کے ساتھ ہوتے۔ صدر بش نے جنگ کی تیاری کی نہ عراق میں امن قائم کرنے کی۔
جواباً صدر بش نے اس نکتے پر زور دیا کہ صدر صدام حسین معاشی پابندیوں کے خلاف چوری کر رہے تھے جس کا مقصد ہتھیار بنانے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اقتصادی پابندیاں کارگر نہ تھیں اس لیے عراق پر حملہ کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ صدر بش کے نزدیک سینیٹر کیری کمزور سیاستدان ہیں جو کبھی جنگ کی حمایت کرتے ہیں اور کبھی مخالفت۔ ایران، افغانستان اور شمالی کوریا بھی مباحثے کا اہم موضوع رہے۔ سینیٹر کیری نے یہ تسلیم کیا کہ افغانستان پر حملہ درست تھا لیکن اسے بھی ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ ان کے خیال میں ایران اور شمالی کوریا بھی صدر بش کے زمانے میں ایٹمی طاقتیں بن کر مزید خطرناک ہو گئی ہیں۔ اس کے جواب میں صدر بش کا دفاع تھا کہ وہ ان ممالک کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کر رہے ہیں اور سینیٹر کیری کا دیا ہوا پلان ناقابلِ عمل ہے۔ خارجہ پالیسی اور امریکہ کی توسیع پسندی کے بارے میں دونوں امیدواروں کا نقطۂ نظر امریکہ کی فوج پر بحث کرتے ہوئے سامنے آیا۔ سینیٹر کیری کا مجوزہ منصوبہ یہ ہے کہ امریکی فوج میں چالیس ہزار کا اضافہ کیا جائے اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر دنیا کی حفاطت پولیس کی طرح کی جائے۔ اس کے برعکس صدر بش کا منصوبہ ہے کہ امریکہ کو اپنے ہتھیاروں کو بہتر بنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کم از کم لوگوں کی مدد سے دوسرے ملکوں پر چڑھائی کی جا سکے۔
صدر بش کا غالباً یہ خیال ہے کہ اگر امریکہ کے پاس برتر ہتھیار ہوں تو وہ عراق کی طرح کسی بھی ملک پر چڑھائی کر سکتا ہے یا اس سے من مانی کر سکتا ہے۔ امریکہ کی داخلی،معاشی اور معاشرتی پالیسیوں پر دونوں امیدواروں کا نقطۂ نظر ایک دوسرے سے بہت مختلف تھا۔ سینیٹر کیری کا الزام تھا کہ صدر بش نے جب حکومت سنبھالی تو امریکہ کے بجٹ میں ساڑھے پانچ ٹریلین ڈالر کا سرپلس تھا جبکہ آج ساڑھے تین ٹریلین ڈالر کا خسارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بہتر برس میں بش پہلے صدر ہیں جن کے زمانے میں ایک ملین سے زائد لوگ بےروزگار ہوئے ہیں۔اسی طرح ان کے زمانے میں غربت بڑھی ہے اور لوگوں سے علاج معالجے کی سہولیات چھِن گئی ہیں۔ سینیٹر کیری نے یہ اعتراض بھی کیا کہ صدر بش نے صرف امیروں کی جیبیں بھاری کی ہیں اور ماحولیات کو تباہ کیا ہے۔ صدر بش ان واضح حقائق کی تردید سینیٹر کیری کے ریکارڈ پر حملے کر کے دینے کی کوشش کرتے رہے۔ صدر بش نے حاضرین کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی بھرپور کوشش کی کہ کیری امریکی سینیٹ کے سب سے زیادہ آزاد خیال سینیٹر ہیں۔ وہ مسلسل ٹیکس بڑھانے اور حکومت کے اخراجات بڑھانے کے لیے ووٹ دیتے رہے ہیں۔ صدر بش نے ووٹروں کو خائف کرنے کی کوشش کی کہ اگر سینیٹر کیری صدر بن گئے تو وہ ٹیکس بڑھانے کے علاوہ صحت کے نظام کو حکومت کی نوکر شاہی کے حوالے کر دیں گے۔ انہوں نے اپنی ٹیکس پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کی چھوٹ دینا امریکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے ضروری تھا۔ داخلی پالیسیوں پر دونوں امیدواروں میں مباحثہ امریکی میں دونوں پارٹیوں کے نظریات کے مطابق تھا۔ سینیٹر کیری ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ریپبلکن پارٹی صرف امیروں اور بڑی بڑی کارپوریشنوں کی محافظ ہے۔ ادھر صدر بش قدامت پسندوں کے نمائندہ ہونےکی حیثیت سے یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ڈیموکریٹ وہ آزاد خیال ہیں جو دفاع کے معاملے میں کمزور ہیں، وہ لوگوں کا ٹیکس بڑھانے کے علاوہ حکومت کے اخراجات میں بھی توسیع کرتے جاتے ہیں۔ یہ مناظرہ امریکی سیاست میں صدیوں سے ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اور عام شہری اس تقسیم سے پہلے سے آگاہ ہیں۔ اس مباحثے یا مناظرے کا فیصلہ دونوں کے طرزِ ادائیگی پر ہو گا۔ صدر بش نے وہ غلطیاں نہیں دہرائیں جو ان سے پہلے مباحثے میں ہوئی تھیں۔ وہ کسی حد تک اپنا پرانا تاثر دور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سینیٹر کیری نے صدر بش پر تنقیدی حملے کرنے کے بہت سے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا لیکن انہیں ادائیگی پر پورا کنٹرول اور حقائق کی تفصیلات کےبارے میں مکمل آگہی حاصل تھی۔ این بی سی کی ویب سائٹ پر ہونے والی غیر سائنسی ووٹنگ میں ابھی تک 7210097 ووٹ پڑ چکے ہیں جس میں سینیٹر کیری کو 69 فیصد اور صدر بش کو31 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||