عراق میں ممنوعہ ہتھیار نہ تھے: انسپکٹر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں جنگ کے خاتمے کے بعد ممنوعہ ہتھیار تلاش کرنے والے سروےگروپ نے اپنی حتمی رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدام حسین کے پاس حیاتیاتی، کیمیکل یا جوہری ہتھیار نہیں تھے۔ تاہم ہتھیار تلاش کرنے والے اس عراقی سروے گروپ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے صدام حسین کا ایسے ممنوعہ ہتھیار بنانے کا منصوبہ تھا۔ بدھ کے روز ہتھیاروں کے انسپکٹرز کے سربراہ چارلس ڈیولفر نے اپنی رپورٹ کی تفصیلات بیان کیں۔ گزشہ ماہ اس رپورٹ کا مسودہ خفیہ طور پر منظرِ عام پر آنے کے بعد رپورٹ کی تفصیلات کے بارے میں پہلے ہی لوگوں کو اندازہ تھا۔ توقع کی جارہی تھی کہ ہتھیاروں کے انسپکٹرز کے سربراہ امریکہ میں سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر اس بات کی بھی تصدیق کریں گے کہ جب مارچ دو ہزار تین میں عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے حملہ کیا تھا، عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں تھے۔ ادھر امریکی انتظامیہ کہ اہلکاروں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اس رپورٹ میں اس بات کی نئی شہادت ہوگی کہ صدام حسین ممنوعہ ہتھیاروں کی تیاری کا منصوبہ رکھتے تھے۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ رپورٹ میں یہ ذکر بھی ہوگا کہ عراق نے کس طرح اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی پروا نہ کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ رپورٹ میں کہا جائے گا کہ عراق نے حیاتیاتی اور کیمیاوی ہتھیاروں کے ذریعے لوگوں کو قتل کرنے کے لیے کس خفیہ طور پر لیبارٹریاں بنانے کی کوشش کی۔ بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ ایک ہزار صفحات کی یہ رپورٹ عراق کے ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں اب تک بننے والی تمام رپورٹوں میں سب سے معتبر سمجھی جا رہی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق امریکہ میں صدارتی انتخاب کی اہمیت اور ہر مباحثے میں مرکزی کردار عراق کو حاصل ہے لہذا اب دونوں صدارتی امیدواروں کے کیمپ رپورٹ میں سے اپنی اپنی مرضی کے حصے اٹھائیں گے اور انتخابی مہم میں انہیں استعمال کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||