’تیرہ سالہ لڑکی کو بیس گولیاں لگیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی عسکری ذرائع کے مطابق اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے درمیان غزہ میں ایک ہفتے سے جاری فوجی کارروائی کے خاتمے کے لیے بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ دریں اثناء منگل کو جنوبی غزہ میں ایک تیرہ سالہ اسرائیلی لڑکی کے اسرائیلی فوجیوں کی گولی کا نشانہ بننے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ایمان الحمس نامی لڑکی کو اسرائیلی چوکی سے نشانہ بنایا گیا۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایمان الحمس کو سکول جاتے ہوئے بیس گولیاں لگیں۔ پانچ گولیاں اس کے سر میں لگیں۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق ایمان الحمس فلسطینیوں کے لیے ممنوعہ علاقے میں جا رہی تھی اور ان کے فوجی سمجھے کے اس کے بستے میں بم ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی سکیورٹی کے دو حکام اور ایک اسرائیلی پولیس اہلکار رملہ میں چھاپے کے دوران ہلاک ہوئے۔ ہبرون کے قریب حماس کے ایک رکن کی ہلاکت کی اطلاع بھی ملی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے کہا ہے کہ اگر فلسطینی یہودی بستیوں پر گھریلو ساخت کے راکٹوں سے حملے بند کرنے کی ضمانت دیں تو اپنی فوجی کارروائی ختم کر سکتا ہے۔ جبلیہ کے پناہ گزیں کیمپ کے قریب ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران اب تک تیس شہریوں سمیت کم سے کم ستر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ میں تشدد کے آغاز کے بعد سے تین اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ پیر کو اسرائیلی کارروائی کے ساتویں روز غزہ میں چار شہریوں سمیت نو فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔ ادھر اقوام متحدہ میں اسرائیلی کارروائی کے خاتمے کے لیے ایک قرارداد پر بحث ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے نے اسرائیلی کارروائی کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق فلسطینی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ابتدائی رابطے ہوئے جن میں آئندہ دنوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ فلسطینی حکام کی طرف سے اسرائیلی ذرائع سے ملنے والی اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||