غزہ میں درجنوں اسرائیلی ٹینک داخل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی غزہ میں سو سے زیادہ اسرائیلی ٹینکوں کے گھسنے کے ساتھ ہی وہاں فوجی آپریشن میں تیزی آگئی ہے۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ٹینک جبالیہ پناہ گزین کیمپ، بیت حنون اور بیت لاہیہ میں گھس چکے ہیں۔ یہ کارروائی اسرائیلی سکیورٹی کابینہ میں وزیر اعظم ایریئل شیرون کے منصوبے کی متفقہ طور پر منظوری کے بعد شروع کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس زمینی کارروائی کا مقصد اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں فلسطین کی جانب سے راکٹوں کے حملے روکنا ہے۔ پچھلے چند روز کے دوران غزہ میں اسرائیل کے داخل ہونے کے بعد سے اب تک وہاں اکتیس افراد ہلاک ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایک ہی دن پہلے شمالی غزہ سے فائر کیے گئے قسام راکٹ سے ایک اسرائیلی قصبے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فلسطینی ہسپتالوں کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں حملے کے بعد سے اٹھائیس فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس جھڑپ میں تین اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ جس کے فوراً بعد فلسطینی کابینہ نے اقوام متحدہ سے ایک ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے تاکہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے ’بیہمانہ قتل‘ پر بحث کی جا سکے۔ ایریئل شیرون نے اپنے وزیر دفاع اور دیگر اہم اہلکاروں سے مشورے کے بعد غزہ پر حملے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے کو ’ڈیز آف پیشنس‘ یا صبر کے دن نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت فوجی کارروائی شمالی غزہ سے شروع کی جائے گی جہاں سے قسام راکٹ فائر کیے جاسکتے ہیں۔ ایک اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے اسرائیلی فوج کے کئی فلسطینی علاقوں میں گھسنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے جن میں بیت لاہیہ، بیت حنون اور جبالیہ پناہ گزین کیمپ شامل ہیں۔ اس منصوبے میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کے قیام میں توسیع کی بھی بات کی گئی ہے۔ جمعرات کو اسرائیلی فوج جبالیہ کے پناہ گزین کیمپ میں گھس گئی اور بم اور مشین گنوں کا استعمال کیا۔ جبالیہ میں ایک لاکھ فلسطینی پناہ گزین قیام پذیر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دیا کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||