غزہ میں تین فلسطینی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں ہونے والے مختلف واقعات میں تین فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے پناہ گزینوں کے جبالیہ کیمپ کے قریب سرحدی باڑ کے پاس بارود نصب کرنے کی کوشش کرنے والے دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ فلسطینیوں کے مطابق خان یونس کیمپ کی جانب اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک عمر رسیدہ شخص بھی ہلاک ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ تشدد کے ایک اور واقعہ میں غزہ کی پٹی سے تین راکٹ داغے گئے جو اسرائیل کے جنوبی شہر سدرات میں جا گرے۔ اس واقعہ میں کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ دیگر اطلاعات کے مطابق درجنوں اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں غرب اردن کے شہر جنین میں داخل ہو گئیں اور مختلف گروہوں میں جھڑپیں ہوئیں۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق تین فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ اتوار کو شام میں ایک فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس کے سینیئر کارکن عزالدین خلیل کی ہلاکت میں اسرائیل ملوث تھا۔ عزالدین خلیل ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم اسرائیلی حکومت نے عوامی سطح پر عزالدین خلیل کو ہلاک کرنے کی تصدیق کی ہے نہ تردید۔ اسرائیلی حکام نے اس ماہ کے اوائل میں کیے گئے ایک خودکش کار بم حملے کے بعد کہا تھا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو کسی بھی جگہ نشانہ بنانے سے نہیں چوکے گا۔ شام نے اس واقعہ کو اسرائئلی دہشتگردی سے تعبیر کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||