روسی باغیوں پر ایک کروڑ ڈالرانعام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے چیچنیا کے باغی رہنماؤں کے بارے میں اطلاع اور ان کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والے کے لیے دس ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی روسی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے دنیا میں کسی بھی جگہ کارروائی کی جائے گی۔ دریں اثناء شمالی اوسیٹیا کی حکومت ختم ہو رہی ہے اور اراکین استعفے دے رہے ہیں۔ جمہوریہ کے صدر الیگزینڈر زاسوکھو نے احتجاج کرنے والوں کو بتایا کہ وزراء دو دن میں استعفے دے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی پوزیشن کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔ روسی حکام کی جانب سے دس ملین ڈالر کے انعام کی پیشکش چیچنیا کے باغی لیڈر اسلان مسکادوف اور شیمل باسایاف کی گرفتاری کے لیے ہے۔ جمعہ کو بیسلان کے سکول میں جہاں سینکڑوں لوگ یرغمال تھے، ایک کارروائی کے دوارن تین سو تیس افراد مارے گئے۔ باغی رہنما مسکادوف انیس سو ستانوے میں چیچنیا کے صدر منتخب ہوئے تھے لیکن آج روس انہیں دہشت گرد سمجھتا ہے۔ باسایاف چیچنیا کے فیلڈ کمانڈر ہیں اور ان پر کئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔ تاہم مسکادوف کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے وفاداروں کا بیسلان میں سکول کے محاصرے سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ وہ اس میں شریک تھے۔ انہوں نے سکول کے محاصرے کو وحشیانہ دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ چیچن باغیوں نے نہیں بلکہ مقامی ریڈیکل گروپوں کا کام ہے۔ ادھر روسی ٹیلی وژن نے بیسلان کے سکول میں یرغمال بچوں کی ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والی وڈیو دکھائی ہے۔ روس کے پروسیکیوٹر جنرل نے پہلی مرتبہ یہ بات بھی تسلیم کی ہے کہ سکول کی عمارت میں بارہ سو افراد یرغمال تھے۔ ابتدا میں حکومت نے یرغمال بننے والوں کی تعداد تیس سو پچاس بتائی تھی۔ ایک بیان میں روسی فوج کے سربراہ جنرل یوری بیلویوسکی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے روس دنیا میں کسی بھی جگہ حملے کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان حملوں میں جوہری مواد استعمال نہیں کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||