BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 September, 2004, 07:01 GMT 12:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکول محاصرے کی ڈرامائی فِلم
سکول کی فِلم
سیاہ لباس میں ملبوس ایک خاتون حملہ آور
روس کے ایک ٹی وی چینل پر اوسیٹیا میں سکول کے محاصرے کی فِلم دکھائی گئی جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ آوروں کے کیمرے سے بنائی گئی ہے۔

اس فِلم میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس جِمنیزیم کے اندر کیا ہو رہا تھا جہاں پر بچوں سمیت سینکڑوں افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ یرغمالیوں کے ہاتھ اوپر اٹھے ہوئے تھے۔

حملے آوروں نے یرغمالیوں کو ہال میں ایک طرف بٹھایا ہوا تھا اور وہ خود ماسک پہنے ہوئے اِدھر سے ادھر گھوم رہے تھے اور عمارت میں دھماکہ خیز مواد نصب کر رہے تھے۔ باسکٹ بال کورٹ کی ٹوکریوں سے بھی بم لٹکے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

فِلم دکھانے والے روس کے این ٹی وی نیٹ ورک کے مطابق یہ فِلم حملہ آوروں نے بنائی تھی۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فِلم ان کے ہاتھ کیسے لگی۔

فِلم میں یرغمالیوں نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور گرمی محسوس کر رہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ منظر سکول پر قبضے کے فوراً بعد کا ہے۔

ایک فِلم میں ایک حملہ آور کو بم چلانے والے بٹن کے اوپر رکھے دکھایا گیا ہے۔ پاس ہی ایک بچہ سہما ہوا بیٹھا ہے۔

سیاہ لباس میں ملبوس ایک خاتون حملہ آور ہاتھ میں پستول اٹھائے دروازے میں کھڑی نظر آ رہی ہے۔

فِلم میں جمنیزیم کے فرش پر خون کے نشان نظر آ رہے ہیں اور کھڑکی سے ساتھ والی عمارت میں آگ لگی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس واقعہ میں بہت سے ہلاک ہونے والوں کے رشہ داروں کے لیے فِلم میں ان کی آخری تصویریں ہیں۔

ادھر اوسیٹیا میں تیسرے روز بھی ہلاک ہونے والوں کو دفنانے کا سلسلہ جاری رہا۔ جبکہ دو سو کے قریب لاپتہ افراد کے رشتہ دار ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے خون دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے خون کا ان لاشوں سے حاصل کیے گئے خون سے موازنہ کیا جائے گا جن کی جھلس جانے کے باعث شناخت ممکن نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک سو سات لاشیں ایسی ہیں جن کی شناخت ممکن نہیں۔

اوسیٹیا میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی مکمل فہرستیں نا ہونے کی وجہ لوگوں کو اپنے عزیزوں کی تلاش میں خود ہر لاش کو دیکھنا پڑ رہا ہے۔

ایک عورت نے بتایا کہ دِن میں دس پندرہ بار مردہ خانے جا کر لاشوں کو دیکھتی ہے لیکن اسے ابھی تک اپنے بھتیجے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

وہ کہتی ہیں کہ حکام کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کے اتنی بڑی تعداد میں بچے ابھی تک لا پتہ کیسے ہیں۔

دریں اثنا روس میں حکومت کی اپیل پر ہزاروں افراد نے سڑکوں پر دہشت گردی کے خلاف مظاہرے میں حصہ لیا۔

لوگوں نے بینر، روس کے جھنڈے اور مذہبی نشان اٹھا رکھے تھے۔ نامہ نگاروں کے مطابق لوگوں میں اس بات پر بھی غصہ بڑھ رہا ہے کہ حکومت نے اوسیٹیا میں سکول کے محاصرے کے معاملے سے صحیح طرح نہیں نمٹا۔

اخبارات میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں جن کا جواب دینا انتظامیہ کے لیے مشکل ہوگا۔ کچھ نے صدر پیوتن پر الزام لگایا ہے کہ وہ مظاہروں کے ذریعے لوگوں کا دھیان بانٹ کر مشکل سوالات سے بچنا چا رہے ہیں۔ اخبارات میں پوچھا جا رہا ہے کہ آیا حکومت کے پاس سکول سے یرغمالیوں کو بچانے کا کوئی منصوبہ تھا بھی کہ نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد