کولن پاول کا ایتھنز دورہ، احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایتھنز میں امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی آمد کے خلاف سینکڑوں لوگوں نے مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین امریکی سفارت خانے تک جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے ان کا راستہ بلاک کردیا۔ مظاہرے کے دوران کچھ جھڑپیں بھی ہوئیں جن کی وجہ سے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ مظاہرین نے، جو مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں کی مخالفت کررہے تھے، توڑ پھوڑ کی۔ بعض مظاہرین فلسطینی پرچم لیے ہوئے تھے۔ کئی مظاہرین کے کتبوں پر عراق میں امریکہ کی سربراہی میں ہونیوالی جنگ کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پولیس مظاہرین کو امریکی سفارت خانے سے دور رکھنا چاہتی تھی جو اولمپک گیمز کی اہم ٹریفک روٹ پر ہے۔ مظاہرے میں شریک ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم یہاں اس لئے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ کولن پاول کو یونان نہیں آنا چاہئے تھا۔۔۔ ہم امریکہ مخالف نہیں ہیں، ہم امریکی سامراجیت کی مخالفت کرتے ہیں۔‘ ایتھنز میں کھیلے جانیوالے اولمپک گیمز میں امریکہ نے سب سے زیادہ تمغے جیتے ہیں اور امریکی وزیر خارجہ کولن پاول سنیچر کو ایتھنز پہنچیں گے جہاں وہ اتوار کو اولمپک گیمز کی اختتامی تقریب میں شریک ہونگے۔ یونانی حکام نے کہا ہے کہ وہ احتجاج کرنے کے مظاہرین کے حقوق سمجھتے ہیں لیکن ان سے کہا ہے کہ وہ توڑ پھوڑ نہ کریں۔ سنیچر کو یونان کی کمیونسٹ پارٹی نے کولن پاول کی آمد کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||