روانڈا کے فوجی دستے دارفور میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روانڈا کے فوجی دستے سوڈان کے علاقے دارفور میں جنگ بندی کے لیے آنے والے افریقی یونین کے معائنہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئے ہیں۔ یہ دستے اتوار کی صبع ہوائی جہاز کے ذریعے سوڈان پہنچے۔نائیجریا سے بھی ایک سو پچاس فوجی ان دستوں کے مدد کے لیے وہاں آرہے ہیں۔ سوڈان کے وزیر خارجہ مصطفیٰ اسماعیل نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم روانڈا کے 150 فوجیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں‘۔ افریقی یونین کی ایک ٹیم خرطوم اور دارفور میں باغیوں کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہی ہے جہاں اٹھارہ ماہ کی لڑائی میں تقریباً پچاس ہزار افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ وہ دو ہزار پانچ سو امن فوج سوڈان بھیجنا چاہتا ہے لیکن سوڈان نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ ’ہمیں ان کی تعداد پر اعتراض نہیں بلکہ ان کے مشن پر۔ کوئی بھی جس مشن واضح نہیں ہوگا وہ ہمیں قبول نہیں ہوگی‘۔ مگر انہوں نہ کہا کہ وہ اس پر دوبارہ غور کرنے کو تیار ہیں اگر افریقن یونین اس کی اہمیت کے بارے میں ہمیں قائل کر لے۔ روانڈا کے صدر پال کگامے نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو یہ دستے طاقت کا استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’معائنہ کاروں کو تحفظ دینا کافی نہیں ہے اگر مقامی لوگ ہلاک ہو رہے ہوں۔ اس لیے ہمارے فوجی شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے طاقت کا استعمال بھی کر سکتے ہیں‘۔ سوڈان افریقی یونین کی امن فوج کی تجویز رد کرتا رہا ہے لیکن اب اس پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے امن فوج کو ملک میں تعین کرنے کی اجازت دے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی جان پرونک نے کہا ہے کہ وہ دارفور میں مزید معائنہ کار تعینات کرنا چاہیں گے۔بی بی سی کو انہوں نے بتایا کہ ’جتنے زیادہ لوگ وہاں موجود ہوں گے اتنا ہی جلدی مقامی لوگوں میں اعتماد بحال ہوگا‘۔ تجویز کے مطابق نہ تو فوجی اور نہ ہی حکومت کی جنجاوید ملیشیا ہتھیار لے کر گھوم سکیں گے۔امن کی تجاویز پر بات چیت کے لیے ابوجا میں تئیس اگست کو اجلاس ہو رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||