سوڈان پر پابندیاں لگانے پر غور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے زیادہ تر ممبران سوڈان کے خلاف پابندیاں لگانے کےحق میں ہیں ـ تاہم پاکستان روس اور چین نے ان ممکنہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ اس مسلئہ کے حل کے لئے سوڈانی حکومت کو مزید وقت دینے کی ضرورت ہے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے سوڈان کے صوبے دارفر میں انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے امریکہ کی ترمیم شدہ تحریک پر بحث شروع کر دی گئی ہے جس میں سوڈان پر پابندیاں لگانے کی تجویز بھی ہے ۔ بعض ملکوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سوڈان میں کثیر الملکی فوج تعینات کی جائے تاکہ سوڈان کے علاقے دارفور میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکے۔ امریکہ نے سوڈان میں کثیر الملکی فوج بھیجنے کے مطالبے کی حمایت نہیں کی ہے اور کہا کہ اس سے معاملات حل ہونے میں مدد ملنےکی امید کم ہے۔ ادھر سوڈان کی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ سوڈان کے علاقے میں اگر کوئی غیر ملکی فوج آئی تو اسے روکا جائے گا کیونکہ سوڈان میں کاروائی کا حق صرف ملکی فوج کو ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے منگل کو سوڈان کا دورہ کیا اور سوڈانی صدر عمر البشیر سے مذاکرات کیے۔ اس اجلاس میں کولن پاول نے بالخصوص دارفر کے موضوع پر بات کی۔ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کی ایک مشترکہ اخباری کانفرنس ہوئی۔ سوڈان کے وزیر خارجہ مصطفی اسمعیل نے کہا کہ سوڈان کو یہ معلوم ہے کہ دارفر کا مسئلہ سنجیدہ ہے لیکن اس کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت دارفر کے بحران پر قابو پانے کے لیے کئی نئے اقدامات کر رہی ہے۔ امریکہ نے سوڈان سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عرب میلیشیاؤں کو قابو کرئے اور امدادی ایجنسیوں کو دارفر میں جانے دیا جائے ۔ اس کے علاوہ حکومت دارفور کے دونوں باغی تحریکوں سے مذاکرات شروع کر ئے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دارفور میں اس وقت دنیا کا بد ترین بحران ہے ۔ وہاں سیاہ فام افریقیوں کے حقوق کے لئے لڑنے والی دو تنظیموں اور عرب میلیشیا میں لڑائی پچھلے سال سے جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||