سیکیورٹی الرٹ ضروری تھا: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں داخلی سیکیورٹی کے سربراہ ٹام رِج نے حفاظتی انتظامات کو سخت کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ کے ممکنہ منصوبوں کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات کا تجزیہ کرنے کے بعد ایسا کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ مسٹر رِج نے کہا ہے کہ سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر دہشت گردوں کے لیے تنصیبات کو نشانہ بنانا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کئی حلقوں کی طرف سے کی جانے والی اس تنقید کو رد کیا کہ تازہ ترین وارننگ کا مقصد ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جان کیری کو شہ سرخیوں سے باہر کرنا تھا۔ ’داخلی سیکیورٹی کے محکمے میں ہمارا کام سیاست کرنا نہیں بلکہ خطرات کو پہچاننا ہے۔‘ بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کئی سرکردہ ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ بش انتظامیہ دہشت گردی کے خطرے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس سے پہلےامریکی سکیورٹی حکام نے کہا تھا کہ واشنگٹن ، نیویارک اور نیو آرک میں حفاظتی انتظامات کو سخت کرنے کے اقدامات تین سال پرانی معلومات کی بنا پر کیے گئے ہیں۔ امریکہ کے اخبارات نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے متعدد سکیورٹی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کی عماراتوں کے بارے میں معلومات القاعدہ نے ستمبر گیارہ سن دو ہزار ایک کے حملوں سے پہلے جمع کی تھیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ القاعدہ ان عماراتوں کو نشانہ بنانے کا اب بھی ارادہ رکھتی ہے۔ ایک اعلی حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ معلومات کو تازہ یا ’اپ ڈیٹ‘ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان معلومات میں اضافہ عمارتوں کی نگرانی کے ذریعے کیا گیا ہے یا ان کی بنیاد عوام کو حاصل معلومات ہیں۔ یہ معلومات گزشتہ ماہ پاکستان میں گرفتار ہونے والے القاعدہ کے ارکان سے برآمدہ ہونے والے کمپیوٹرز سے حاصل ہوئی ہیں۔ کئی حکام کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ معلومات القاعدہ کے لیے پرانی ہو گی لیکن امریکی خفیہ اداروں کے لیے نئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معلومات اور القاعدہ کی طرف سے امریکہ کے صدارتی انتخابات سے پہلے حملہ کرنے کی خفیہ اطلاعات کی موجودگی میں امریکی حکومت حفاظتی انتظامات کو سخت کرنے اور ان سے عوام کو آگاہ کرنے میں حق بجانب ہے۔ پاکستانی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جولائی میں گرفتار ہونے والے ایک کمپیوٹر انجنیئر سے برآمد ہونے والے کمپیوٹر سے ایسے شواہد ملے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ نے امریکہ اور برطانیہ میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||