کشمیر میں حملے، 4 ہلاک، 30 زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے راجوڑی ضلع میں تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شدت پسند اتوار کی رات محمد شفیع کے گھر میں زبردستی گھُس آئے اور ان کے اہلِ خانہ پر حملہ کر دیا۔ حملے کے سبب محمد شفیع، ان کا بیٹا اور بیٹی ہلاک ہو گئے جبکہ اہلیہ کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ بھارت ہی کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی شہر بارامولا میں دستی بم پھٹنے سے ایک شہری ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے قریب ایک گاڑی پر دستی بم پھینکا جس میں سرحدی سیکیورٹی فورس کے اہلکار سوار تھے۔ لیکن دستی بم سڑک پر جا گرا جس کے باعث عام شہری دھماکے کی زد میں آ گئے۔ حکام کے مطابق دھماکے سے متاثر ہونے والے بیشتر افراد ہسپتال آنے والے مریض تھے یا مریضوں کے ساتھ آنے والے رشتہ دار۔ راجوڑی میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کو شبہ تھا کہ محمد شفیع پولیس کے مخبر تھے۔ تاہم کسی شدت پسند گروہ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یہ واقعہ ریاست کے سرمائی دارالحکومت جموں کے شمال مغرب میں ایک سو اسی کلومیٹر پر واقع ایک گاؤں میں پیش آیا ہے۔ شدت پسند گروہ ماضی میں بھی سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں اور ایسے لوگوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں جن پر انہیں پولیس کے مخبر ہونے کا شبہ تھا۔ شدت پسند گروہ انیس سو نواسی سے اب تک کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں تقریباً چالیس ہزار لوگ لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ تاہم بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ نومبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پرتشدد کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||