باڑ پر حکومتی خاموشی پر تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر باڑ کی تعمیر کشمیر کی تقسیم کی علامت ہے جو ان کے بقول پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے ۔ سنیچر کو ایک اخباری کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ باڑ کی تعمیر پر پاکستانی حکومت کی خاموشی کشمیر کے متعلق کمزور پالیسی کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تقسیم ان کی جماعت ہر گز قبول نہیں کرے گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بھارت نے خود کہہ دیا ہے کہ کنٹرول لائن پر باڑ کی تعمیر کے لیے انہیں پاکستان کی خاموش حمایت حاصل ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے خارجہ سیکریٹری اور دفتر خارجہ کے ترجمان نے حال ہی میں کہا تھا کہ باڑ کی تعمیر سے کشمیر کی متنازع حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم حکام کے بقول باڑ کی تعمیر نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی کشمیر کے بارے میں قرار دادوں کی خلاف ورزی بھی ہے جس کے خلاف پاکستان نے اقوام متحدہ کے متعلقہ حکام کے پاس احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے۔ بعد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کے دوران راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے باڑ کی تعمیر کے خلاف پاکستان حکومت کی خاموشی سے کشمیریوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے اور مستقبل میں اس کے خطرناک نتائج بھی نکلیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ باڑ کی تعمیر پر حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کا ذمہ دار وہ صدر جنرل پرویز مشرف کو سمجہتے ہیں یا پوری فوج کو؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے جس نے ان کے بقول کشمیر کے متعلق پاکستان کی پالیسی تبدیل کردی ہے۔ اس موقعہ پر انہوں نے کارگل کے متعلق عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ اگر حکومت نے کمیشن نہیں بنایا، تو اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ حزب اختلاف عالمی سطح کا کمیشن بنائے۔ تاہم ان کے بقول انہوں نے کسی فورم پر اس کی تجویز اب تک نہیں پیش کی ہے۔ راجہ ظفرالحق نے کارگل کے حوالے سے ایک امریکی جنرل کی کتاب کے اقتباسات پڑھنے کے بعد دعویٰ کیا کہ اب واضح ہوچکا ہے کہ ’کارگل جنگ، جنرل پرویز مشرف کا فیصلہ تھا، جس کے متعلق منتخب حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||