انتخابات: کرزئی، دوستم مدمقابل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے ازبک جنگجو سردار عبدل رشید دوستم کے انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد اب وہ صدر حامد کرزئی کے سب سے اہم مخالف بن کر ابھرے ہیں۔ جنرل دوستم نے جمعرات کو صدر کرزئی کے فوجی مشیر کے طور پر استفٰی دیا تھا تاکہ وہ اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ مزار شریف میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’انتخابات میں میں بھی ایک صدارتی امیدوار ہوں گا‘۔ دوستم افغانستان کے شمال میں بسنے والی ازبک نسل سے تعلق رکھنے والی آبادی کے اہم رہنما ہیں اور ان کے فیصلے سے نسلی اور گروہی مسائل انتخابات میں اہم کردار ادا کریں گے۔صدر کرزئی نے ابھی تک دوستم کے اس فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ جنرل دوستم کے ایک نائب اکبر بائی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کے دوستم صدر کرزئی کی پالسیوں سے ناخوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ غیر پختون کمانڈروں کو ’جنگجو سردار‘ کہنے اور انہیں غیر مسلح کرنے کی مہم سے بھی نالاں ہیں۔صدر کرزئی کا تعلق ایک پختون قبیلے سے ہے۔ اکبر بائی نے کہا کہ کرزئی کے جیتنے کے امکان اس لیے کم ہیں کیونکہ جنوب اور مشرق میں جہاں سے پختونوں کی بڑی آبادی ہے، ووٹروں کا اندراج بہت سست ہے مگر شمال میں یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ کرزئی کے کوئی بیس مخالفین نے دوستم کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ افغانستان کی طویل جنگ میں جنرل دوستم بہت مہارت سے اپنے سیاسی اثرو رسوخ کو قائم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ شروع میں وہ روسی حکمران فوج کی طرف سے لڑتے رہے۔ پھر سابق صدر نجیب اللہ کے ساتھ مجاہدین کے خلاف اور پھر انیس سوبانوے میں مجاہدین کے ساتھ چل پڑے اور انیس سو ستانوے تک شمالی افغانستان میں ایک علاقے پر قبضہ جما چکے تھے۔ بعد میں شمالی اتحاد کے ساتھ طالبان کے خلاف جنگ کرتے رہے۔ طالبان کے خاتمے کے بعد دوستم ملیشیا ان کے اہم مدمقابل تاجک جنرل عطا محمد کے خلاف جھڑپوں میں مصروف رہی ہے۔ بے شک وہ صدر کرزئی کے فوجی مشیر تھے لیکن ان کے ساتھ دوستم کے تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں تھے۔جنوری میں جب ملک کا پہلا آئین بنانے کے لیے بات چیت ہو رہی تھی تو دوستم نے ایک مرکزی حکومت کی مخالفت کی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے حامد کرزئی نے کہا تھا کہ طالبان سے زیادہ جنگجو سردار افغانستان کے لیے خطرہ ہیں۔ جنرل دوستم نے اپنے خطاب میں عطا محمد کو، جنہیں کرزئی نے منگل کو بلخ صوبے کا گورنر بنایا، بھائی کہا تا ہم مبصرین کا خیال ہے کہ وہ کرزئی کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔ ابھی تک تو دوستم کا پیغام بہت سادہ ہے۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ ’ہر ایک کی اپنی عزت اور غیرت ہے۔ میں آپ کے حقوق کی حفاظت کروں گا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||