افغان اغوائی برطانیہ میں رہیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فروری 2000 میں افغان ائر لائن، اریانا کا ایک طیارہ اغوا کر کے لندن میں اتارنے والے نو افغان باشندوں کو برطانیہ میں قیام کی اجازت مل گئی ہے۔ ان نو باشندوں کو پہلے 2001 میں طیارے کے اغوا کے جرم میں قید کی سزائیں دے دی گئی تھیں۔ تاہم فیصلے میں ایک قانونی غلطی کی وجہ سے جون 2003 میں انہیں بری کردیا گیا۔ اس کے بعد ان کے وکلاء نے برطانیہ میں ان کے قیام کا معاملہ اٹھایا گیا اور اب امیگریشن اپیل کے ادارے نے فیصلہ دیا ہے کہ اگرچہ دفتر داخلہ کایہ اقدام درست تھا کہ انہیں سیاسی پناہ سے انکار کردے تاہم انہیں واپس افغانستان نہیں بھیجا جائے۔ اپیل اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اگر یہ واپس گئے تو طالبان کے حامی ان پر حملہ کرسکتے ہیں۔ دفتر داخلہ کے اپنے قواعد کے مطابق کسی افغان کو اسی صورت میں اس کے ملک واپس بھیجا جا سکتا ہے جب کہ اس کا تعلق کابل سے ہو۔ تاہم کابل سے باہر کے علاقوں پر اس کا اطلاق نہیں کیا جاتا کیونکہ طالبان کے زوال کے باوجود کابل سے باہر کے علاقے مختلف گروپوں میں اقتدار کی رسہ کشی کی وجہ سے خطرات سے پر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||