برطانیہ: لیسٹر میں لیبر کو شکست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں لیبر امیدوار کو لبرل ڈیموکریٹ کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وسطی انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اگرچہ لیبر امیدوار جیتنے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن ان کی ووٹوں کی برتری کم ہو گئی۔ پچھلے الیکشن میں اس حلقے میں لیبر کی برتری گیارہ ہزار ووٹ تھی جبکہ اس مرتبہ انہوں نے صرف چار سو ساٹھ ووٹوں کی برتری حاصل کی ہے کنزرویٹو پارٹی کے امیدوار دونوں نشستوں پر تیسرے نمبر پر رہے۔ لیسٹر سے کامیاب ہونے والے پرمجیت سنگھ گل کسی بھی نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے لِبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے پہلے رکن اسمبلی ہیں۔ لیسٹر ساؤتھ کو لیبر پارٹی کے لئے ایک محفوظ سیٹ سمجھا جاتا تھا کیونکہ گزشتہ پچاس سالوں سے لیبر امیدوار اس سیٹ پر جیتتے آئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں لیبر حکومت کا عراق پر جنگ میں شریک ہونے کا فیصلہ ایک اہم مسئلہ تھا اور لوگوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے اس پالیسی پر اپنی نا خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اسی مسئلے پر سابق لیبر ایم پی جارج گیلووے کی نئی پارٹی ’رسپیکٹ‘ کو بھی خاصے ووٹ ملے۔ رسپیکٹ پارٹی نے لیسٹر ساؤتھ میں پونے چار ہزار ووٹ حاصل کیے اور برمنگھم میں پونے تیرہ سو ووٹ لیے۔ لیسٹر سے جیتنے والے لبرل ڈیموکریٹ امیدوار پرمجیت سنگھ گل نے کہا کہ اس نتیجے سے اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ وزیر اعظم ٹونی بلیئر عراق کے مسئلے پر عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||