فلوجہ:امریکی حملے، بیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے عراق کے شہر فلوجہ میں انتہا پسندوں کے ٹھکانوں پر تازہ ہوائی حملے کیے ہیں جن میں بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراق میں مقیم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعہ کے روز فلوجہ میں مشتبہ انتہا پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اتحادی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جمعہ کو بعقوبہ میں ایک پولیس سٹیشن پر حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے اور بغداد میں سڑک کے پاس پھٹنے والے ایک بم دھماکے میں ایک اور پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔ فلوجہ میں ہوائی حملوں سے چند گھنٹے پہلے امریکی فوجیوں نے ایک جھڑپ میں دو تشدد پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس ہفتے میں فلوجہ میں اس طرح کا یہ تیسرا حملہ ہے۔ اس سے پہلے جمعرات کو ہونے والے تشدد کے واقعات کے بعد عراق کے عبوری وزیراعظم ایاد علاوی نے عراق میں انتہا پسندوں کو کچلنے کا عزم کیا۔ تشدد کے ان واقعات میں جو مختلف شہروں میں ہوئے سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ عراق میں ابو معصاب الزرقاوی القاعدہ کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اس کی گرفتاری کے لیے دس ملین ڈالر انعام کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ ایک امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ تازہ ترین حملوں میں فلوجہ کے جنوب مشرق میں واقع الزرقاوی گروپ کے ایک محفوظ ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جہاں اور جب بھی کہ الزرقاوی گروپ کے لوگوں کا پتہ چلے گا ہم اسے نشانہ بنائیں گے‘۔ ایک اسلامی ویب سائٹ کے مطابق الزرقاوی کے حامیوں نے جمعرات کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ لیکن ایک خبررساں ادارے کے مطابق فلوجہ سے کچھ نقاب پوش جنگجوؤں نے ایک ویڈیو ٹیپ میں الزرقاوی کی فلوجہ میں موجودگی کی تردید کی۔ اس ٹیپ میں ایک نقاب پوش نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ امریکہ الزرقاوی کا بہانہ بنا کر فلوجہ میں اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے‘۔ وزیراعظم ایاد علاوی نے کہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد اقتدار کی منتقلی میں روڑے اٹکانا ہے ۔ یاد رہے کہ عراق میں اقتدار کی منتقلی میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکہ کہ وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ جو لوگ ان حملوں میں ملوث ہیں وہ اقتدار کی منتقلی میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ ان دنوں میں ہمیں جس نوعیت کی مزاحمت کا سامنا ہو سکتا تھا ہم اس کا صحیح طور پر اندازہ نہیں لگا سکے تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ باغیانہ فساد ہمارے لیے ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے اور ہم اس سے ضرور نمٹیں گے۔ لیکن انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اقتدار کی منتقلی کے بعد یہ تشدد کم ہو جائے گا جب عراقی دیکھیں گے کہ ان کے اپنے لوگ اقتدار میں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||