’صدام کوسزائے موت ہوسکتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنگی جرائم کی عدالت کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر جرائم ثابت ہو گئے تو عراق کے سابق صدر صدام حسین کو سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ سالم چلابی نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں بتایا کہ گو عراقی قانون میں قاتل کے لیے سزائے موت دی جا سکتی ہے لیکن اس پر عمل در آمد کے لیے اتحادی حکام کی طرف سے کی گئی اس قانون کی معطلی کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ سینکڑوں عراقی اپنے سابقہ حکمرانوں کے خلاف ثبوت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ یہ مقدمات کم از کم ایک سال تک شروع نہیں کیے جا سکتے۔ سالم چلابی عراقی نیشنل کانگرس کے سربراہ احمد چلابی جو کچھ عرصہ پہلے تک امریکہ کے اہم حامیوں میں شامل تھے کے بھتیجے ہیں۔ چلابی کے لیے عراق کے سابق حکمرانوں کے خلاف مقدمات کی کارروائی کا آغاز کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں اس لیے کہ ملک میں نئی حکومت کے خلاف بہت زیادہ مزاحمت پائی جاتی ہے۔ عراق کے پرانے عدالتی نظام کو با اثر بنانے کے لیے بہت زیادہ اصلاحات درکار ہیں ۔ چلابی نے جو جنگی جرائم کی عدالت کے ڈائریکڑ ہیں کہا کہ ’صدام حسین کے معاملے میں اتحادی حکام کے ساتھ زور و شور سے مذاکرات جاری ہیں‘۔ انہوں کے کہا کہ انہیں امید ہے تیس جون کو اقتدار کی منتقلی کے بعد سابق صدر اور کچھ اور اہم افراد بہت جلد عراقی حکومت کے حوالے کر دئیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی قانون قتل اور زنا بالجبر کے مجرموں کو سزائے موت کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن عراق کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر پال بریمر نے یہ قانون معطل کر رکھا ہے۔ نئی عراقی حکومت نے اگر اس معطلی کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا تو یہ قانون لاگو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ سزائے موت کا قانون ایک متنازع معاملہ ہے اس لیے کہ کچھ اتحادی جیسے برطانیہ اس کے سخت خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سابقہ حکمرانوں کے خلاف ثبوت اور گواہیاں جمع کرنے کے لیے ایک دفتر کھول رکھا ہے جہاں پر سینکڑوں لوگ معلومات فراہم کرنے کی غرض سے روزانہ آتےہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عراق کا عدالتی نظام انیس سو بیس کے عشرے میں انگریزوں نے بنایا تھا جو کہ کافی اچھا ہے لیکن بہت سے حکومتیں اس میں ردوبدل کرتی رہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ججوں کی ایک خود مختار کونسل بنائی گئی ہے اور ان میں سے کچھ ٹریننگ کے لیے بین الاقوامی عدالت بھی بھجوائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز تب ہوگا جب اقتدار کی منتقلی کے بعد ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہون گے اور اس کے تقریباً ایک دو سال بعد مقدمات کا آغاز ہو سکے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||