اسرائیلی وزیر اعظم مشکل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غرب اردن کے علاقے غزہ سے انخلا کے منصوبہ کی منظوری کے بعد شیرون کو کابینہ کو یکجا رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی مخلوط حکومت میں شامل نیشنل ریلجیئس پارٹی، این آر پی، نے دھمکی دی ہے کہ وہ شیرون کی حمایت ترک کر دے گی۔ یہ پارٹی اسرائیلی نوآبادیوں کے حق میں ہے۔ اگر شیرون این آر پی کی حمایت کھو بیٹھتے ہیں تو 120 کے ایوان میں ان کے پاس صرف 55 نشستیں رہ جائیں گی۔ جبکہ پارلیمان میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگی۔ گزشتہ روز اسرائیلی کابینہ نے غزہ سے انخلا کی اصولی منظوری دی تھی۔ جبکہ وہاں موجود یہودی نوآبایوں کو ختم کرنے سے متعلق فیصلہ پر رائے شماری آئندہ سال تک کے لئے مؤخر کر دی تھی۔ اس مرحلہ وار انخلا کے حق میں سات کے مقابلے میں چودہ ووٹ پڑے تھے۔ تاہم ہر مرحلہ پر نئی رائے شماری ہوگی اور خیال ہے کہ نوآبادیوں کے انہدام پر مارچ دو ہزار پانچ میں کام شروع ہو سکے گا۔ اسرائیلی وزیرخارجہ سلوان شلوم نے انخلا کے منصوبہ پر مصری حکام سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ وہ پیر کی شام مصر کے صدر حسنی مبارک سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ مصر غزہ اور مصر کے درمیان واقع فلادلفی کے راستے کو محفوظ بنائے۔ حال ہی میں اس علاقے میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی شدت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||