فلسطینی پناہ گزینوں پر کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سویٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں پیر سے شروع ہونے والی ایک دو روزہ کانفرنس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کانفرنس سویٹزرلینڈ کی حکومت اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) مشترکہ طور پر منعقد کر رہی ہے۔ اس کانفرنس میں ستر ممالک اور تیس کے قریب بین الاقوامی ایجنسیاں شرکت کررہی ہیں۔ یہ کانفرنس اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ہونے والی پچھلے چھپن سالوں میں سب سے بڑی کانفرنس ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت چار ملین کے قریب فلسطینی پناہ گزین موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تہائی غزہ، غربِ اردن اور لبنان کے پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں فلسطینیوں کے لیے امدادی رقم دو سو ڈالر فی کس سالانہ ہوا کرتی تھی جو اب کم ہوتے ہوتے ستر ڈالر فی کس سالانہ رہ گئی ہے۔ کانفرنس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کس طرح اس امدادی رقم کو مزید کم ہونے سے بچایا جائے۔ یاد رہے کہ امریکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کو اس مد میں سب سے زیادہ مالی مدد فراہم کرتا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک کی طرف سے مالی مدد مسلسل کمی کا شکار رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ پوری دنیا میں آنے والی دیگر انسانی آفات میں یورپی ممالک کی مالی مدد بھی ہوسکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی نے کہاہے کہ غربت اور نکاسیِ آب کے غیر معیاری نظام کی وجہ سے پناہ گزینوں کے یہ کیمپ بدحالی کی ایک بری تصویر پیش کرتے ہیں۔ کانفرنس میں کیمپوں میں بچوں کی رہائش، ماحول اور فلاح و بہبود، پر بھی غور کیا جائے گا۔ اسرائیل کو اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا ہے جبکہ مشرق وسطی کے امن روڈ میپ کے ذمہ دار چاروں فریقوں کو بلایا گیا ہے جو امریکہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور روس ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی سیاسی کانفرنس نہیں ہے لہذا اجلاس میں فلسطینی مسئلے کے حل پر بحث نہیں کی جائے گی۔ تاہم یہ کانفرنس ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جبکہ علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||