’بےگھر فلسطینیوں کو امداد چاہیئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج نے جن لوگوں کے گھر مسمار کر کے انہیں بے گھر کر دیا ہے ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لئے بھاری امداد کی ضرورت ہے۔ ادارے کے ایک اہلکار پیٹر ہینسن نے رفاہ کے پناہ گزین کیمپ کے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کیا جس کے دوران غصے سے بھرے ہوئے فلسطینیوں نے اقوامِ متحدہ کے رسد سے بھرے ہوئے ایک قافلے پر ہلہ بول دیا اور اقوامِ متحدہ کی گاڑیوں کی کھڑکیاں توڑ ڈالیں۔ ہینسن کی کیمپ میں موجودگی کے دوران ایک تین سالہ فلطسینی لڑکی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ لڑکی کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ وہ مٹھائی خریدنے کے لئے ایک دکان کی طرف جا رہی تھی کہ اسرائیلی فوجیوں نے اس کے سر پر گولی مار دی۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسے اس علاقے میں کسی فائرنگ کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ جمعہ کو اسرائیلی فوج رفاہ کے کچھ علاقوں سے تین روزہ کارروائی کے بعد واپس چلی گئی تھی جس میں چالیس سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے ۔ تاہم رفاہ کے رہائشی فوجیوں کے جانے کے بعد تباہی دیکھ کر شدید غم و غصے میں ہیں۔ ان کے درجنوں گھر مسمار کر دیئے گئے ہیں اور سڑکیں ادھیڑ دی گئیں ہیں۔ حتٰی کہ ایک چڑیا گھر کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے جس کے جانور یا تو مر کھپ گئے یا پھر بھاگ گئے۔ پیٹر ہینسن کا کہنا تھا کہ رفاہ میں بہت تباہی ہوئی ہے جو نا قابلِ قبول ہے۔ ادھر عالمی ادارۂ صحت کے ایک سینیئر اہلکار نے فلسطینی علاقوں میں صحت کی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ یہاں بہت خرابی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہ غزہ میں سکیورٹی کے بحران اور فلسطینیوں پر پابندیوں کے باعث امراض کا بہت خطرہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||