| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین: اوسلو کا خواب کیسے ٹوٹا؟
تحریر: پال رینالڈز، بی بی سی پیر تیرہ ستمبر انیس سو ترانوے ایک خوبصورت دن تھا۔ امریکہ کے اس وقت کے صدر بِل کلنٹن نے جب وائٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں پیچھے ہٹتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کو ہاتھ ملانے کا موقع دیا تو وہ انتہائی پر سکون نظر آ رہے تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس مصافحہ کے لئے کافی تیاری کی گئی تھی کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ یاسر عرفات سے صرف ہاتھ ملائیں گے اور بوسہ نہیں لیں گے۔ بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ اوسلو امن کا نقشۂ راہ نہیں تھا۔ لیکن اس وقت اسے اس سلسلے میں ایک پیش رفت سمجھا گیا۔ یاسر عرفات اور یٹزاک رابین کا ہاتھ ملا لینا ہی کافی حیران کن تھا۔ رابین اسرائیل کے جرنیل رہ چکے تھے اور عرفات فلسطین کے جنگجو رہنما تھے۔ ان کے اوسلو امن معاہدے کے لئے راضی ہونے سے ہی امن کی کرن نظر آئی تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد میں اسرائیل اور فلسطین کے سلامتی کے اہلکاروں کو مل کرگشت کرتا دیکھ کر میں واقعی حیران رہ گیا تھا۔ اس وقت اسرائیلیوں اور فلسطینیوں میں ایک نیا احساس نظر آرہا تھا۔ ایک دوست فلسطینی ڈاکٹر نے مجھے کہا تھا کہ رملہ غرب اردن کا نیو یارک بن رہا ہے جبکہ ایک اسرائیلی کا خیال تھا کہ وہ اب معمول کی زندگی گزار سکے گا۔ لیکن آج ایسا لگتا ہے کہ اس وقت سب الٹ ہوا تھا۔ کہا گیا تھا کہ سلامتی کی صورتحال بہتر ہونے سے معاملات طے ہوں گے۔ حالانکہ غالباً معاملات طے ہونے سے سلامتی کی صورتحال کے بہتر ہونے کا مقصد حاصل کیا جانا تھا۔ ان کو ریاست کو آخری مرحلہ بنانے کی بجائے اسے پہلا قدم بنانا چاہیے تھا۔ فلسطینیوں کو یہ نہیں پتہ تھا انہیں کس قسم کی ریاست ملےگی۔ جس وقت تشدد کی لہر چلی تو اعتدال پسند لوگوں کے پاس لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ تشدد کا مطلب تھا کہ اسرائیلی کو سلامتی کا احساس نہیں ملا۔ اور یوں امریکی صدر بِل کلنٹن کی کوشش کے باوجود یہ کوشش ضائع ہو گئی۔ انہوں نے سن دو ہزار میں کیمپ ڈیوڈ میں یاسر عرفات کو اور اسرائیل کے ایک اور وزیر اعظم اور سابق جنرل اہود براک کو قریب لانے کی کوشش کی۔ لیکن یہ معاہدہ بھی اسی طرح کا تھا جس میں زیادہ اختلافات سامنے آتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کوئی امید نظر نہیں آتی۔ امریکہ، اقوام متحدہ، روس اور یورپی یونین کے پیش کردہ نام نہاد نقشۂ راہ میں اور اوسلو امن معاہدے میں بہت کچھ مشترک ہے۔ یہ نقشۂ راہ بھی فلسطینی ریاست سے پہلے سلامتی کی صورتحال پر زور دیتا ہے۔ اور اس کا بھی پہلے معاہدے جیسا انجام ہو رہا ہے۔ ایک فلسطینی دانشور نے حال ہی میں لندن میں کہا تھا کہ فلسطینیوں کو ابھی تک نہیں پتہ کہ ان کو کس قسم کی ریاست ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’انتہائی خطرہ مول لینے کا کوئی انعام نہیں‘۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق ایک معاہدے کا مسودہ موجود ہے۔ یہ دستاویز دونوں جانب کے ہم خیال لوگوں نے خاموشی سے کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کی تیاری کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس دستاویز میں یروشلم، اسرائیلی آبادیوں، فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی(ان میں سے بہت کم واپس جائیں گے) کا ذکر ہے۔ اس دستاویز کی ظاہر ہے کوئی حیثیت نہیں۔ اس میں صرف وہ باتیں ہیں جو اعتدال پسندوں کو اچھی لگیں گی۔ لیکن مسئلہ یہ کہ اوسلو معاہدے کے دس سال بعد ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |