اسرائیلی فیصلے پر امریکی خیرمقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش انتظامیہ نے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوجوں کی واپسی کے متنازعہ منصوبے کی منظوری کو سراہا ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے وزیراعظم ایریئل شیرون کے غزہ کی پٹی سے انخلاء کے متنازعہ منصوبے کی اصولی طور پر منظوری کل دی تھی۔ بش انتظامیہ نے اس منصوبے کو ’تاریخی اور جرات مندرانہ‘ قرار دیا ہے۔ منصوبے کی تحریک چودہ کے مقابلے میں سات ووٹوں سے منظور کر لی گئی۔ گو کہ فوجوں کی بالآخر واپسی کی منظوری تو دے دی گئی لیکن حکومت نے غزہ کی پٹی سے یہودی نوآبادیوں کو گرانے کے مسئلے پر فیصلہ موخر کر دیا ہے۔ ایریئل شیرون نے کہا ہے کہ غزہ کی بستیاں اٹھارہ ماہ میں ختم کردی جائیں گی۔ یروشلم میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہناہے کہ منظوری کے فیصلے سے شیرون کو حکومتی اتحاد برقرار رکھنے میں تو مدد ملے گی تا ہم اس کی اہمیت اتنی نہیں جتنی کہ غزہ کی پٹی سے یہودی نوآبادیوں کو گرانے کے فیصلے کی ہوتی۔ خیال کیا جاتا تھا کہ دو وزراء کی برطرفی کے بعد شیرون معمولی اکثریت سے منصوبہ منظور کرا سکیں گے۔ برطرف وزراء میں سے ایک بینی ایلون برطرفی کا خط نہ لینے کی غرض سے غائب ہوگئے۔ بعد میں وہ اجلاس کے لئے واپس آ گئے مگر اٹارنی جنرل نے انہیں ووٹ ڈالنے سے منع کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||