اسرائیلی فوج پھر غزہ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر ایک بار پھر غزہ کی پٹی میں واقع رفاہ کے پناہ گزیں کیمپ میں داخل ہوگئے ہیں۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے تاہم کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کا کہنا ہے کہ تیس اسرائیلی ٹینک اور بلڈوزر ایک سو پچاس میٹر تک کیمپ میں گھستے چلے گئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ یہاں ان سرنگوں کی تلاش میں آئی ہے جو غزہ میں مصر سے اسلحہ لانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ تقریباً دو ہفتے قبل اسرائیلی آرمی نے علاقے میں ایک جامع آپریش کیا تھا جس کے دوران چالیس فلسطینی ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوگئے تھے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق چار ہزار افراد بے گھر کیے گئے ہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے صرف وہ گھر تباہ کیے ہیں جو شدت پسندوں کے زیر استعمال تھے۔ اس سے قبل فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا تھا کہ منگل کے روز رفاہ میں قائم اقوام متحدہ کے ایک سکول میں پڑھنے والا ایک دس سالہ بچہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||