مخالفوں کی چھٹی کر دوں گا: شیرون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی اور غرب اردن کے بعض علاقوں سے انخلاء کے متنازع منصوبے کو منظور کرانے کے لیے منصوبے کی مخالفت کرنے والے وزراء کو کابینہ سے نکال دیں گے۔ اس سے قبل انہوں نے منصوبے کو نئی ترامیم کے ساتھ کابینہ میں بحث کے لیے پیش کیا ہے جس کے نتیجے میں انخلاء ایک کی بجائے اب چار مراحل میں تجویز کیا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان ترمیم سے منصوبہ زیادہ وزراء کے لیے قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے سلسلے میں وزراء کی جانب سے کی جانب سے کی جانے والی مخالفت کے تناظر میں انہوں نے کابینہ میں کرائی جانے والی ووٹنگ ملتوی کر دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اتوار کو ہونے والے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے پہلے وزیراعظم شیرون کو اپنے منصوبے پر کابینہ کے تئیس میں سے صرف گیارہ وزراء کی حمایت حاصل ہے۔ رائے عامہ کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ اسرائیلی عوام غزہ کی پٹی اور غرب اردن کے بعض علاقوں سے یک طرفہ انخلاء کے حق میں ہیں۔ تاہم ایریئل شیرون کی لیکود پارٹی نے اس ماہ کے اوائل میں ہونے والی ووٹنگ میں انخلاء کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ کابینہ کے وزراء کو نئے منصوبے کی دستاویز جمعہ کو دی گئی جس پر وزراء نے اتوار کو بحث کا آغاز کیا۔ ایریئل شیرون نے اجلاس کے آغاز پر کہا کہ ’ہم اس پر آج بحث شروع کریں گے اور اسے آئندہ اجلاس میں بھی جاری رکھیں گے۔‘ لیکود پارٹی میں ایریئل شیرون کے بڑے حلیف بینجمن نیتن یاہو نے غزہ سے انخلاء کے منصوبے میں وزیراعظم کی ناکامی میں بظاہر اہم کردار ادا کیا تھا۔ یروشلم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینولڈز کا کہنا ہے کہ کابینہ کے وزراء کی حمایت کےحصول کے لیے ایریئل شیرون نے اپنے اصل منصوببے کو نیا نام دے کر پیش کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نئی تجاویز میں غزہ سے ایک ہی مرحلے میں انخلا کے بجائے علاقہ خالی کرنے کے لئے چار مراحل کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ مجوزہ فرق کابینہ کے وزراء کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کافی ہو گا۔ اس کے باوجود وزراء کی خاصی تعداد ایسی بھی ہو گی جو غزہ سے کسی قسم کے بھی انخلاء کی مخالفت کرے گی اس لئے ایریئل شیرون کو اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کے لئے خاصی کوشش کرنی ہو گی۔ ایریئل شیرون کے مخلوط اتحاد میں شامل دائیں بازو کی دو جماعتوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کسی بھی یہودی آبادی سے اسرائیلی فوج واپس بلائی گئی تو وہ اپنی حمایت ختم کر دیں گی جس کے باعث پارلیمان میں حکومت کی اکثریت بھی ختم ہو جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||