گورننگ کونسل کے سربراہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی انتظامیہ کی طرف سے مقرر کردہ گورننگ کونسل کے سربراہ عزالدين سليم ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ کار بم دھماکہ بغداد میں امریکہ کی سربراہی میں عراق میں تعینات اتحادی فوج کے صدر دفتر کے نزدیک ہوا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس حملے کا نشانہ، جسے امریکی حکام خود کش حملہ قرار دے رہے ہیں، عزالدین سلیم تھے یا نہیں۔ عراق کے نائب وزیرِ خارجہ کے مطابق عزالدین سلیم صدر دفتر کے مرکزی کمپاؤنڈ کے اندر جانے کے لئے اپنی کار میں انتظار کر رہے تھے۔
امریکی فوج کے مطابق مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہے۔ دھماکہ ہونے کے بعد علاقہ پر دھویں کا بادل پھیل گیا۔ عراق میں امریکی منتظم پال بریمر نے حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا جائے گا اور عزالدین سلیم کے جمہوری اور خوشحال عراق کے خواب کو حقیقت بنایا جائے گا۔ عراق کے عبوری وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے بھی حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق میں جاری سیاسی عمل کے دشمن اب بھی سرگرم ہیں اور یہ کہ اس حملے سے ملک میں جمہوریت بحال کرنے کا ہمارا عزم اور پختہ ہوا ہے۔ عزالدین سلیم کا تعلق جنوبی شہر بصرہ سے تھا اور شیعہ تنظیم دعوہ اسلامی موومنٹ کے رکن تھے۔ وہ کئی اخباروں اور رسالوں کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے۔ انہوں نے تین ہفتے پہلے گورننگ کونسل کی صدارت سنبھالی تھی۔ عراقی گورننگ کونسل نے موصل کے علاقے سے تعلق رکھنے والے غازی اجیل الیاور کو نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے اور وہ جون میں اقتدار کی منتقلی تک سربراہ رہیں گے۔ اجیل یاور نے اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ وہ بم حملے کے باوجود آزادی اور جمہوریت کی طرف سفر جاری رکھیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||