مزید بدسلوکی برداشت نہیں، بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ عراقی فوجی قیدیوں کے ساتھ مزید کسی قسم کی بدسلوکی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے ایک ہفتہ وار ریڈیو کے پروگرام میں کہا کہ جو فوجی اہلکار اس بدسلوکی میں شامل تھے وہ پوری فوج کی عراقی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بدسلوکی صرف ابو غریب جیل کی حد تک ہی محدود ہے۔ صدر بش نے مزید کہا کہ ’میں اور میری فوج اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کی بدسلوکی دوبارہ نہیں دوہرائی جائے گی۔ تمام امریکی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس معاملے میں کچھ لوگوں کے شامل ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پوری فوج اِس بدسلوکی میں شامل ہے‘۔ اس سے قبل امریکی فوجی حکام نے اعلان کیا تھا کہ وہ عراقی قیدیوں کے ساتھ اس کے علاوہ ان کو اِس بات کی اجازت نہیں ہوگی کہ وہ قیدیوں کے سروں کو ڈھاپنے کے لیے کسی چیز کا استعمال کریں یا قیدیوں کو غیر آرام دہ طریقے سے کھڑا کریں۔ کئی ڈیموکریٹک سینیٹر اور انسانی حقوق سے متعلق اداروں نے کہا ہے کہ عراقی قیدیوں کے ساتھ کی گئی بدسلوکی نے جنیوا کنونشن کو پامال کیا ہے۔ لیکن اس بارے میں امریکہ کے دفاعی حکاموں نے سختی سے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے تمام طریقے قانونی تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||