ایرانی مزاحیہ فِلم اُتارنا پڑی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں مذہبی انتظامیہ کے بارے میں مزاحیہ فِلم بنانے والوں نے ’مارمولک‘ِ نامی اس فِلم کو سینما گھروں سے اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس انعام یافتہ فِلم کے پیش کاروں کا کہنا ہے وہ انتظامیہ کے دباؤں کی وجہ سے اگلے جمعہ اس فِلم کو سیمنا گھروں سے اتار لیں گے۔ یہ فِلم نمائش کے لئے اکیس اپریل کو سینما گھروں میں پیش کی گئی اور اس کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ صرف تہران میں یہ فِلم دس لاکھ ڈالر کا کاروبار کر چکی ہے۔
’مارملوک‘ کا مطلب چھپکلی ہے۔ یہ فِلم ایک مجرم کے بارے میں ہے جو ایک ملاح کا روپ دھار لیتا ہے۔ فِلم کا مرکزی کردار رضا ملاح کا روپ دھارنے کے بعد مذہبی رہنماؤں کو حاصل مراعات سے خوب فائدہ اٹھاتا ہے اور آخر میں وہ اپنی سادگی سے لوگوں کو دوبارہ مسجدوں کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ فِلم کی ریلیز سے پہلے بھی اس کے بارے میں مذہبی انتظامیہ میں بحث ہوئی تھی اور اس کی نمائش میں ایک مہینے کی تاخیر ہوئی تھی۔ فِلمساز منوچھر محمدی کا کہنا تھا کہ ’عدلیہ اور وزارت ثقافت نے کچھ شہروں کے علاوہ اس فِلم پر پابندی نہیں لگائی گئی لیکن ہمیں ہدایت دی گئی ہے ہم اس کی نمائش روک دیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||