اغواء شدہ افغان فوجی قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کے روز افغانستان کے زابل صوبے سے اغواء کئے گئے افغان سپاہیوں کے لاشیں ملک کے جنوب سے ملی ہیں۔ افغان حکام طالبان جنگجوؤں کو ان پانچ سپاہیوں کے اغواء اور قتل کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ زابل کے گورنر خیال محمد نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان سپاہیوں کو پیٹ اور سینے میں گولیاں ماری گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں افغانستان کے جنوبی حصوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان سے وابستہ جنگجوؤں کو ان واقعات کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ اتوار کے روز زابل صوبے میں ہی ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے چار افغان فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ گزشتہ ہفتے قندھار، ارزگان اور ہلمند صوبوں میں دس افغان صوبے طالبان حملوں کا شکار ہوئے تھے۔ طالبان جنگجوؤں نے افغان دستوں کے علاوہ غیر ملکی فوجیوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا عہد کر رکھا ہے۔ گزشتہ سال اگست سے لے کر اب تک ساڑھے چھ سو افراد تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||