بصرہ میں بم حملے، 68 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی قیادت میں قائم کی جانے والی سیکورٹی فورس کی چار مختلف عمارتوں پر حملوں میں بیس بچوں سمیت اڑسٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں تین تھانوں پر بارود سے بھری گاڑیوں سے حملوں میں کم از کم اڑسٹھ افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک اور زخمیوں ہونے والوں میں بیس بچے بھی شامل ہیں۔ پہلا دھماکہ جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ایک خود کش حملے تھا صبح کے مصروف اوقات میں ہوا۔ اس حملے میں بارود سے بڑی ایک گاڑی کو استعمال کیا گیا تھا۔ بصرہ کےجنوب میں زبیر کے علاقے میں پولیس کے ایک تربیتی مرکز پر حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں چار برطانوی فوجی بھی زخمی ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بصرہ میں بدھ کی صبح سوا سات بجے جب سڑکوں پر سکولوں کالجوں اور کاروبار کے لیے جانے والوں کا رش ہوتا ہے، بارود سے بھری تین گاڑیاں بیک وقت تین تھانوں سے جا ٹکرائیں۔ ان دھماکوں کی زد میں سکول کے بچوں کی دو بسیں بھی آ گئیں اور ایک بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی جس کی وجہ سے بس میں سوار بچے ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد سے بصرہ میں برطانوی فوج تعینات ہے اور یہ شہر ملک کے دوسرے علاقوں کی نسبت پر امن رہا ہے۔ شمالی عراق کے دیگر کئی شہروں بغداد، فلوجہ، نجف اور بقعوبہ میں گزشتہ دو ہفتوں سے تشدد کے واقعات میں شدت آئی ہے اور سو کے قریب امریکی فوجی اور سینکٹروں عراقی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک برطانوی فوجی افسر کے مطابق امدادی کام کرنے والوں کو دھماکوں کی جگہ پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ شہر میں لوگوں کا ہجوم ہے جو امدادی کام کے لیے آنے والوں پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ فلوجہ شہر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ میرین پر مسلح افراد نے شدید حملے کئے۔ دریں اثناء ڈینمارک کے سفارت خانے نے کہا کہ ڈینمارک کے جس شہری کو گزشتہ ہفتے اغواء کر لیا گیا تھا اس کی لاش ملی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||