شیرون کا منصوبہ تاریخی ہے: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کے غزہ اور مغربی کنارے سے انخلاء کے منصوبے کو سراہتے ہوئے اسے ’تاریخی اور جراتمندانہ‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے فلسطینی ریاست کے بارے میں اپنے عزم کا اعادہ کیا لیکن یوں لگا جیسے وہ اس ریاست میں مغربی کنارے کی مکمل شمولیت کے حامی نہیں رہے کہ ’زمینی حقائق بہت تبدیل ہو چکے ہیں۔‘ فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے کہا ہے کہ صدر بش کی طرف سے شیرون کی جانب سے پیش کئے گئے منصوبے کی حمایت سے امن کی تمام امیدیں دم توڑ جائیں گی۔ ان کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’منصوبے کی امریکی حمایت کا مطلب ہے کہ تمام معاملات حتمی ہیں اور وہ معاملات بھی جن کو ابھی مذاکرات کے آخری مرحلہ میں طے ہونا ہے۔ یہ بات امن کے لئے کی گئی پیش رفت کو تباہ کر دے گی۔‘ انخلاء کے اس منصوبے کے تحت اسرائیل غزہ کی پٹی سے چھ کے علاوہ تمام آبادیاں ختم کر دے گا۔ فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ منصوبے کو امریکی حمایت ملنے سے امن کا ’روڈ میپ‘ اور ایک ایسی فلسطینی ریاست جس میں مغربی کنارہ اور غزہ کے تمام علاقے شامل ہوں کا قیام مخدوش ہو جائے گا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کے انخلاء کے اس منصوبے کو ان کی کابینہ میں دائیں بازو کے ارکان کی سخت مخالفت کا بھی سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایریئل شیرون کا خیال ہے کہ امریکی حمایت سے اسرائیل میں منصوبے کی مخالفت اور اس کے بارے میں شکوک و شبہات ختم ہو جائیں گے۔ ان کی لیکود پارٹی دو مئی کواس مسئلہ پر رائے شماری کر رہی ہے۔ بہت سے آباد کاروں کا کہنا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ آباد کاری کی تحریک کے علمبردار شیرون نے انہیں دھوکا دیا ہے۔ مغربی کنار ے کے کُل دو لاکھ چالیس ہزار آباد کاروں میں سے بانوے ہزار پانچ سو ان چھ بستیوں میں آباد ہیں۔ جب کہ سات ہزار پانچ سو آباد کار غزہ کی پٹی میں رہتے ہیں جہاں فلسطینیوں کی تعداد تیرہ لاکھ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||