مشرقِ وسطیٰ: بش، مبارک ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش اور مصر کے صدر حسنِ مبارک نے غزہ سے انخلاء کے اسرائیلی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے ۔تاہم یہ بھی کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا نظام الاوقات اپنی جگہ قائم ہے۔ مذاکرات کے بعد جارج بش نے کہا کہ ’ یہ ایک مثبت قدم ہوگا ‘ اور حسنِ مبارک نے کہا کہ ’ اس کو سراہا جائے گا‘۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم ایرئیل شیرون چاہتے ہیں کہ آبادکار غزہ کی پٹی سے یک طرفہ طور پر نکل آئیں ۔ ایرئیل شیرون اس ہفتے جارج بش سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ جارج بش نے کہا کہ مشکل ہفتے کے بعد اب عراق میں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ جارج بش نے کہا کہ حسنِ مبارک اور ان کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ کو خالی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مشرقِ وسطی کے لئے امریکی نقشۂ راہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ٹیکساس میں پیر کو ہونے والے مذاکرات ان سفارتی مذاکرات کا حصہ تھے جس میں جارج بش بدھ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم سے اور جمعہ کو برطانوی وزیرِ اعظم سے ملاقات کریں گے۔ اسرائیل اور امریکہ چاہیں گے کہ غزہ سے اسرائیلی انخلا کے بعد مصر جنوبی غزہ میں وسیع تر سیکیورٹی کی ذمےداری سنبھالے۔ ایسے اندیشے ہیں کہ اسرائیلی انخلاء کے بعد مشرقِ وسطی میں غزہ عدم استحکام کا ایک نیا مرکز بن سکتاہے۔ مصر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ غزہ کے ساتھ لگنے والی اپنی سرحدوں کی نگرانی کر سکتا ہے لیکن غزہ میں سیکیورٹی کی ذمےداری نہیں سنبھالنا چاہتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||