BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 April, 2004, 03:30 GMT 08:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میری موت سے دلبرداشتہ نہ ہوں‘
مقتدیٰ الصدر
مقتدیٰ الصدر کو خاص طور پر نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے
عراقی شیعہ رہنما مقتدٰی الصدر نے کہا کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور آزادی امن اور اسلام کے لیے ان کے خون کی پرواہ نہ کی جائے۔

اس دوران ایک امریکی ترجمان کے مطابق امریکی حکام کے خیال میں القاعدہ کے سرکردہ رہنما ابو مصعب الزرقاوی فلوجہ میں یا کہیں آس پاس موجود ہیں۔

عراق پر قابض امریکی انتظامیہ کے ترجمان ڈون سینر نے بتایا ہے کہ سراغ رساں ادارے یرغمال بنائے گئے غیرملکیوں اور ان کو اغواء کرنے والوں کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں اور مختلف اقوام کے کوئی چالیس افراد اغوا کیے جا چکے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ نجف میں مقتدٰی الصدر کی جانب سے سرکاری عمارتیں خالی کردینے کے باوجود ملیشیا ختم کرنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

دریں اثنا مقتدٰی الصدر نے خود کو ہلاک یا گرفتار کیے جانے کے بارے میں امریکیوں دھمکیوں کو مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’ اول تو میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور اس مادروطن کے لیے میرا خون حاضر ہے۔

News image
مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے ان کے والد کی طرح امن، آزادی اور اسلام کی سر بلنمدی کے لیے ان کی جان کی بھی کوئی اہمیت نہیں

میرا عراقی عوام کےلیے پیغام ہے کہ عراق پر قبضے کے خاتمے، آزادی اور دنیا میں امن اور اسلام کے فروغ کے لیے میرے خون کی پروا نہ کریں۔ میرے والد کی ہی مانند میری ذات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ عراقی وہ با افتخار قوم ہیں جو ہرطرح کی جارحیت اور قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔

اس لیے میری موت سے دلبرداشتہ نہ ہوئیے گا۔اور جہاں تک میرے قتل کی دھمکیوں کا تعلق ہے تو میں نے ماضی میں بھی کہا ہے کہ یہ تو میرے والد کا ہی راستہ ہے۔ میں مارا جاؤں گا یا گرفتار ہوجاؤں گا۔ تیسرا راستہ فتح کا ہی ہے۔ اور میں عراقی عوام کی خاطر اپنا خون دینے کے لیے تیار ہوں۔‘

یہ اطلاعات ہیں کہ مقتدٰی الصدر اور امریکیوں کے درمیان مصالحت کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

عراق کی اسلامی سپریم کونسل کے ایک رکن محسن حکیم کے مطابق مقتدٰی الصدر کو اس بات پر رضامند کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ وہ اپنے خلاف درج مقدمۂ قتل کا سامنا کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد