’میری موت سے دلبرداشتہ نہ ہوں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شیعہ رہنما مقتدٰی الصدر نے کہا کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور آزادی امن اور اسلام کے لیے ان کے خون کی پرواہ نہ کی جائے۔ اس دوران ایک امریکی ترجمان کے مطابق امریکی حکام کے خیال میں القاعدہ کے سرکردہ رہنما ابو مصعب الزرقاوی فلوجہ میں یا کہیں آس پاس موجود ہیں۔ عراق پر قابض امریکی انتظامیہ کے ترجمان ڈون سینر نے بتایا ہے کہ سراغ رساں ادارے یرغمال بنائے گئے غیرملکیوں اور ان کو اغواء کرنے والوں کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں اور مختلف اقوام کے کوئی چالیس افراد اغوا کیے جا چکے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ نجف میں مقتدٰی الصدر کی جانب سے سرکاری عمارتیں خالی کردینے کے باوجود ملیشیا ختم کرنے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ دریں اثنا مقتدٰی الصدر نے خود کو ہلاک یا گرفتار کیے جانے کے بارے میں امریکیوں دھمکیوں کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ اول تو میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور اس مادروطن کے لیے میرا خون حاضر ہے۔
میرا عراقی عوام کےلیے پیغام ہے کہ عراق پر قبضے کے خاتمے، آزادی اور دنیا میں امن اور اسلام کے فروغ کے لیے میرے خون کی پروا نہ کریں۔ میرے والد کی ہی مانند میری ذات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ عراقی وہ با افتخار قوم ہیں جو ہرطرح کی جارحیت اور قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔ اس لیے میری موت سے دلبرداشتہ نہ ہوئیے گا۔اور جہاں تک میرے قتل کی دھمکیوں کا تعلق ہے تو میں نے ماضی میں بھی کہا ہے کہ یہ تو میرے والد کا ہی راستہ ہے۔ میں مارا جاؤں گا یا گرفتار ہوجاؤں گا۔ تیسرا راستہ فتح کا ہی ہے۔ اور میں عراقی عوام کی خاطر اپنا خون دینے کے لیے تیار ہوں۔‘ یہ اطلاعات ہیں کہ مقتدٰی الصدر اور امریکیوں کے درمیان مصالحت کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ عراق کی اسلامی سپریم کونسل کے ایک رکن محسن حکیم کے مطابق مقتدٰی الصدر کو اس بات پر رضامند کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ وہ اپنے خلاف درج مقدمۂ قتل کا سامنا کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||