افغانستان:اٹھائیس ارب ڈالر کی سفارش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کے شہر برلن میں افغانستان کے لئےبین الاقوامی امداد کے حصول کے لیے کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے یہ کانفرنس سن دو ہزار دو میں جاپان میں ہوئی تھی۔ برلن کانفرنس میں افغان حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر بھی غور کیا جائے گا اور عالمی بنک کی اس رپورٹ پر بھی جس میں اگلے پانچ سالوں کے لئے مزید ستائیس عشاریہ چھ بلین ڈّالر کی امداد کی سفارش کی گئی ہے۔ افغانستان میں بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی اشد ضرورت میں کوئی شک نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غربت، جنگجو سرداروں کی چپقلش اور مکمل طور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچہ بھی اہم مسائل ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اس کانفرنس میں ان تمام باتوں پر زور دیا ہے۔ انکے پیغام کے مطابق بین الاقوامی برداری کی طرف سے بھاری امداد کے بغیر افغانستان کی تعمیرِ نو ناممکن ہے۔ حامد کرزئی آئندہ پانچ سالوں کے لئے تقریباً اٹھائیس بلین ڈالر کی امداد طلب کر رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ اور عالمی بنک ان کے اِس مطالبے کی تائید کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||