| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان: فوجیں بڑھانے پر غور
نیٹو کے سیکرٹری جنرل لارڈ رابرٹسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی امن فوج کے دستوں میں اضافہ کر نے کی تجویز پر فیصلہ اگلے دو ہفتوں میں کیاجائے گا۔ افغانستان کے لئے قائم کی جانے والی بین الاقومی امن فوج کے پانچ ہزار پانچ سو فوجی نیٹو کی کمان میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں متعین ہے۔ یہ فوج صرف دارالحکومت کابل تک ہی محدور ہے اور اس کے باہر اس کا کوئی اثر نہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے افغانستان کے صدر حامد کرزئی اوراقوام متحدہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ جب تک افغان فوج اور پولیس زیر تربیت ہیں بین الاقومی امن فوج کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ لارڈ رابرٹسن جمعہ کو افغانستان کے ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے تھے۔ حالیہ مہینوں میں افغانستان کے مشرقی اور جنوبی صوبوں میں بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر بین الاقوامی امن فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیاجاتا رہا ہے۔ طالبان تنظیم کے ارکان بڑی تعداد میں جنوبی اور مشرقی صوبوں میں منظم ہو رہے ہیں اور انہوں نے امریکی اور افغان فوجوں پر حملے بھی شروع کر دئے ہیں۔ اس کے علاوہ افعانستان میں مختلف مسلح گروہوں میں تصادم اور جھگڑے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ فوجی ماہرین اب اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کہا ں اور کتنی تعداد میں فوج درکار ہے۔ تاہم نیٹو کی فوج میں اضافے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ امن فوج کے دستے مہیا کرنے والے ممالک ایک ایسے وقت جب امریکہ بھی عالمی برادری سے عراق میں فوجیں بھیجنے کا مطالبہ کر رہا ہے مزید کتنے فوجی دستیاب کر سکتے ہیں۔ لارڈ رابرٹسن نے افغانستان آمد سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ نیٹو افغانستان میں امن اور سلامتی کے لیے تمام تر تعاون جاری رکھے گا۔ انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ افغانستان میں فوجوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||