حریت: مذاکرات کا دوسرا دور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیم کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک چار رکنی وفد نے بھارت کے وزیر اعظم ایل کے اڈوانی سے سنیچر کو نئی دہلی میں مذاکرات کئے۔ بھارتی حکومت اور کشمیری علیحدگی پسندوں کے درمیان مذاکرات کے اس دوسرے دور میں شیعہ رہنما مولانا عباس انصاری نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے وفد کی قیادت کی۔ ان مذاکرات کا مقصد بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پندرہ سال سے جاری تشدد کو ختم کرنا ہے۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایل کے اڈوانی نے کہا کہ بھارت میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں اور مئی کے دوسرے ہفتے تک مرکز میں نئی حکومت تشکیل پا جائے گی اس لئے حریت کے رہنماؤں کے ساتھ یہ طے پایا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جون میں دہلی میں منعقد ہو گا جس دوران دیگر مسائل پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے فروغ کا حریت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر بھی مثبت اثر پڑا ہے۔ علیحدگی پسندوں نے بھارتی جیلوں میں قید پندرہ سو سے زائد افراد کی رہائی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||