عراق: دھماکےمیں پچاس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے جنوب میں چالیس کلومیر دور اسکندریہ کے قصبے میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر کار بم دھماکے میں کم ازکم پینتالیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ تھانے اور برابر میں واقع عدالتی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ عراق کی نئی پولیس فورس کے جو امریکہ نے قائم کی ہے اب تک تین سو سے زیادہ اہلکاروں کو شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ عراق میں امریکیوں کے کام کرنے والی پولیس کے خلاف یہ تازہ ترین حملہ ہے۔ یہ اسکندریہ کے علاقے میں ہوا جو کہ شیعہ اکثریتی علاقہ ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس دھماکے میں وہ عناصر ملوث ہوں جو کہ شیعہ اکثریتی کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ پیر کے دن امریکی حکام نے عراق میں شیعہ سنی فساد شروع کرانے کی ایک سازش کا انکشاف کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||