| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حماس کی خاتون خودکش حملہ آور
فلسطینی تنظیم حماس نے پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف حملے میں خاتون خودکش حملہ آور کو استعمال کیا ہے۔ یہ حملہ غزا کے ساتھ سرحد پر کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں چار اسرائیلی ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔ اب تک صرف سیکولر فلسطینی تنظیمیں ہی خواتین خودکش حملہ آوروں کو اسرائیل کے خلاف حملوں کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے خاتوں کو اس لئے استعمال کیا کیونکہ اسرائیل نے فلسطینی مردوں کے داخلے پر پابندیاں بڑھا دی ہیں۔ حماس کے بانی کا کہنا ہے کہ حملے کے لئے پہلی مرتبہ خاتون کے استعمال سے ثابت ہوتا ہے کہ دشمن کے خلاف اُن کی تحریک زور پکڑتی جارہی ہے۔ حماس نے اریز کراسنگ پر اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل کے خلاف حملے بڑھانے کا عزم کیا ہے۔ عسکریر پسندوں نے خود کش حملہ آور کا نام ریم رائیشی بتایا ہے جن کی عمر بیس سال تھی اور وہ دو بچوں کی ماں تھیں۔ ریم کا تعلق غزا سے تھا۔ یہ حملہ اس مقام پر ہوا جہاں سے گزر کر ہزاروں افراد کام کی غرض سے روزانہ اسرائیل میں داخل ہوتے ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق گزشتہ تین سال میں اس جگہ کئی حملے ہوچکے ہیں۔ اسرائیل نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر پابندیاں بڑھا سکتا ہے۔ حماس اور الاقصیٰ بریگیڈ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ان کی مشترکہ کارروائی تھی۔ اسرائیل نے خود کش حملہ آوروں کو اسرائیل میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے غزہ کی پٹی کے گرد باڑ لگا رکھی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||