’پولیس بریانی میں بیف چیک کرے گی‘

ہریانہ میں گائے کی سمگلنگ اور ذبحہ پر پابندی پر عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی فورس تشکیل دی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہSalma Husain

،تصویر کا کیپشنہریانہ میں گائے کی سمگلنگ اور ذبحہ پر پابندی پر عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی فورس تشکیل دی گئی ہے

بھارت کی مغربی ریاست ہریانہ کے حکام کے مطابق اب وہاں پولیس مٹن بریانی کی ڈشز کی چیکنگ کرے گی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس میں گائے کا گوشت تو شامل نہیں کیا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں گائے کی خدمت سے متعلق ’ہریانہ کاؤ سروس کمیشن کے چیئرمین بھانی رام منگلہ کا کہنا ہے کہ ضلع میوات میں تفتیشی ٹیم کے افسران کی مدد کے لیے جانوروں کے ماہرین بھی موجود ہوں گے۔

خیال رہے کہ انڈیا میں بسنے والے ہندوؤں کی اکثریت گائے کو ایک مقدس جانور تصور کرتی ہے تاہم بہت سے انڈین اس کا گوشت کھاتے ہیں۔

انڈیا کی ریاست ہریانہ میں گائے کے گوشت پر پابندی ہے۔

بھانی رام منگلہ نے بی بی سی کی نامہ نگار امیتابہ بھٹاسالی کو بتایا کہ انھیں ایسی بہت سی شکایات موصول ہو رہی ہیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ ضلع میوات میں بریانی میں مٹن اور بیف کو مکس کر کے بیچا جا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے پولیس کو اسے چیک کرنے کا حکم دیا ہے، گوشت کے نمونے لیبارٹری میں بھجوائے جائیں گے۔

 یہ خیال کہ مسلمان بریانی میں مٹن کے بجائے بیف ڈال رہے ہی ’بے بنیاد الزام‘ ہے: نور الدین نور

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن یہ خیال کہ مسلمان بریانی میں مٹن کے بجائے بیف ڈال رہے ہی ’بے بنیاد الزام‘ ہے: نور الدین نور

میوات دارالحکومت دہلی سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اس علاقے میں پہلے بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات ہو چکے ہیں۔

ہریانہ میں گائے کی سمگلنگ اور ذبح پر پابندی پر عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی فورس تشکیل دی گئی ہے۔

بہت سی رضاکار بھی دور دراز گاؤں میں جا کر یہ دیکھتے ہیں کہ کہیں کوئی گائے کو ذبح تو نہیں کر رہا۔

نورالدین نور جو کہ میوات بار ایسوسی ایشن کے نمایاں کارکن ہیں کا کہنا ہے کہ یہ خیال کہ مسلمان بریانی میں مٹن کے بجائے بیف کا استعمال کر رہے ہیں یہ ’بے بنیاد الزام‘ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہے وہاں بسنے والے لوگوں کی یگانگت میں خلل ڈالنے کی کوشش ہے۔

’بریانی اس ضلعے میں طویل عرصے سے بک رہی ہے اور اس میں کبھی بھی بیف کو مکس نہیں کیا گیا لیکن اگر پولیس چیکنگ کرنا چاہتی ہے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘