’دہشتگردی، دہشتگردی ہے، چاہے جو بھی کرے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
امریکہ کےخارجہ سیکریٹری جان کیری نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’اچھے اور برے دہشتگروں‘ میں نہ فرق کرتا ہے اور نہ کر سکتا ہے اور یہ کہ وہ ممبئی اور پٹھان کوٹ پر حملہ کرنےوالوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’دہشتگردی، دہشتگردی ہے، چاہے جو بھی کرے۔‘
جان کیری نے دلی میں اپنی بھارتی ہم منصب سشما سوراج کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان نے حقانی نیٹ ورک جیسی تنظیموں کے خلاف زیادہ سختی سے کارروائی کی ہے۔‘
جان کیری اور امریکہ کے وزیر تجارت پینی پرٹزکر ’ہند امریکہ سٹراٹیجک اور کمرشل‘ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے دلی آئے ہوئے ہیں۔ وہ کل وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے۔
انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سواراج نے کہا کہ دہشتگردی کے مسئلے پر امریکہ انڈیا کے موقف سے اتفاق کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’سرحد پار پاکستان سے دہشت گردی کی اعانت کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور امریکہ انڈیا کے اس موقف سے اتفاق کرتا ہے کہ دہشت گردوں کو اچھے یا برے زمرے میں تقسیم کرکے ان میں فرق نہیں کیا جاسکتا۔۔۔اور یہ کہ دہشتگردی کے بارے میں کوئی بھی ملک دہرے معیار اختیار نہیں کرسکتا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نے اس بات کو بھی دہرایا کہ ’پاکستان اپنی سر زمین پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا بند کرے۔۔۔‘



