چینی شہر میں ’پاکستانی مہمانوں کو نہ ٹھہرانے کی ہدایت‘

گُونجواؤ تجارتی اعتبار سے چین کا ایک بہت اہم مرکز ہے (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنگُونجواؤ تجارتی اعتبار سے چین کا ایک بہت اہم مرکز ہے (فائل فوٹو)

چین کے ایک بڑے تجارتی شہر میں پولیس نے کم کرائے والے ہوٹلوں کو حکم دیا ہے کہ وہ پاکستان سمیت پانچ مسلمان اکثریتی ممالک سے آنے والے مہمانوں کو اپنے ہاں ٹھہرانے سے پرہیز کریں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھیں یہ بات گُونجواؤ شہر کے کم کرائے والے چند ہوٹل مالکان نے بتائی ہے، تاہم چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وزارت کو اس قسم کی کسی پالیسی کا علم نہیں ہے۔

روئٹرز کے مطابق انھیں تقریباً 150 ین (23 ڈالر یومیہ) کے کرائے والے تین سستے ہوٹلوں کے مالکان نے بتایا کہ انھیں اس سال مارچ کے مہینے میں ہی پولیس کی جانب سے نوٹس موصول ہو چکے تھے جن میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان، شام، عراق، ترکی اور افغانستان سے آنے والے افراد سے دور ہی رہیں۔

ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے ایک ہوٹل کے کے ملازم کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس کی وجہ معلوم نہیں، لیکن مجھے اتنا معلوم ہے کہ ہم ان ممالک سے آنے والے لوگوں کو اپنے ہاں نہیں ٹھہرا سکتے۔‘

اطلاعات کے مطابق اس پابندی کا اطلاق صرف سستے ترین ہوٹلوں پر کیاگیا ہے کیونکہ شہر کے بڑے ہوٹلوں کو اس قسم کی ہدایات نہیں ملی ہیں۔

اس حوالے سے جمعے کو ہانگ کانگ کے روزنامے ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ اس پابندی کا تعلق رواں ہفتے کے دوران شہر میں ترقی کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس سے ہے۔ اس کے علاوہ اس قانون کا تعلق اگلے ہفتے ’جی 20‘ ممالک کےسربراہی اجلاس سے بھی ہو سکتا ہے جو ہانگچواؤ کے شہر میں منعقد ہو رہا ہے، اگرچہ دونوں شہروں کے درمیان ایک ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

جمعے کو وزارت خارجہ کی روزانہ کی بریفنگ کے دوران جب ترجمان مسٹر لُو کانگ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم نہیں کہ گُونجواؤ میں اس قسم کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے۔ ’میں نے کبھی نہیں سنا کہ چین میں اس قسم کی کوئی پالیسی پائی جاتی ہے۔‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک چین کا تعلق ہے، تو ہماری پالیسی اصولاً یہ ہے کہ ہم چین اور دیگر ممالک کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دوستانہ رویہ رکھیں اور اس سلسلے میں چینی حکومت ایسی پالیسی بناتی ہے جس کا مقصد لوگوں کے درمیان دوستانہ تبادلے میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے۔‘

روئٹرز کے مطابق اس خبر کے حوالے سے جب گُونجواؤ کے مرکزی دفتر اور مقامی پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس میں فوری طور پر کامیابی نہیں ہو سکی، تاہم شہر کے دو مہنگے ہوٹلوں کا کہنا تھا کہ انھیں پولیس کی جانب سے اس قسم کا کوئی حکم یا ہدایت نہیں ملی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ اِن پانچ ممالک سے آنے والے مہمانوں کو اپنے ہاں نہیں ٹھہرائیں۔

یاد رہے کہ گُونجواؤ چین کے صوبے گوانڈوننگ کا صدر مقام ہے جو کہ تجارتی اعتبار سے چین کا ایک بہت اہم مرکز ہے اور یہاں غیر ملکیوں کی ایک اچھی خاصی رہائش پزیر ہے، جن کی اکثریت افریقہ سے آئے ہوئے تاجروں کی ہے۔