چین میں لائیو سٹریمنگ پر سخت کنٹرول کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہYOUKU PAPIJIANG
چین میں انٹرنیٹ کا نگراں ادارے نے ملک میں مقبول لائیو سٹریمنگ پروگرامز پر سخت کنٹرول کا مطالبہ کیا ہے۔
چین کی سائیبر سپیس انتظامیہ براہِ راست نشریات کے کنٹرول کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر سائٹس پر نشر ہونے والے مواد کی کل وقتی نگرانی چاہتی ہے۔
چین کے حکام کی جانب سے آئن لائن نشر ہونے والے ’نامناسب‘ مواد کو روکنے کا یہ تازہ ترین اقدام ہے۔
خیال رہے کہ چین کی نوجوان نسل میں لائیو سٹریمنگ پروگرام بہت مقبول ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق چین میں ایسے 83 پلیٹ فارمز استعمال میں ہیں جن میں چند پروگرامز براہِ راست بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور وہ وائرل بھی ہو جاتے ہیں۔
ان پروگراموں میں سب سے بڑا پلیٹ فارم ’بلی بلی‘ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پانچ کروڑ صارف ہیں۔
چین کے روزنامے دی پیپلز کے مطابق سی اے سی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ان ویب سائٹس سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ’نئی منصوعات خصوصاً براہِ راست نشر ہونے والے پروگرامز کی سکیورٹی کو مزید سخت کریں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی ضروریات کے تحت لائیو ویڈیوز جہاں صارف اپنے تبصرے کرتے ہیں اب وہاں ’بلٹ سکرینز‘ کا استعمال کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ چین کی وزارتِ ثقافت نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ لائیو سٹریمنگ پروگرامز نشر کرنے والے متعدد پلیٹ فارمز جہاں ’مبینہ طور پر فحاشی یا اشتعال انگیز‘ پروگرام نشر ہوتے ہیں اور جو ’معاشرے کی اخلاقیات کو بگاڑنے کا سبب بنتے ہیں‘ کی تفتیش کر رہی ہے۔
مئی میں چین کے حکام نے کئی لوگوں پر خود کو کیلے کھاتے ہوئے فلمانے پر پابندی عائد کر دی تھی اور اسے’ بہکانے‘ والا فیشن قرار دیا تھا۔







