اڑیسہ میں خواجہ سرا جیلوں کی حفاظت کریں گے

سپریم کورٹ نے اس سے قبل خواجہ سراؤں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کا کہا تھا

،تصویر کا ذریعہSUBRAT KUMAR PATI

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے اس سے قبل خواجہ سراؤں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کا کہا تھا

انڈیا کی مشرقی ساحلی ریاست اڑیسہ (اوڈیشا) میں حکومت نے خواجہ سراؤں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک منفرد منصوبہ بنایا ہے۔

قدیم ہندوستان میں خواجہ سراؤں کا استعمال حرم کی حفاظت کے ساتھ حرم تک پیغام رسانی کے لیے استعمال ہوتا تھا لیکن اب انھیں عام طور پر شادی بیاہ میں رقص کرتے اور ٹرین یا سڑکوں پر پیسہ مانگتے دیکھا جاتا ہے۔

لیکن اب اڑیسہ کی ریاستی حکومت نے جیلوں کی حفاظت کے لیے خواجہ سراؤں کو تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

اڑیسہ ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں خواجہ سراؤں کو جیلوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس سے قبل خواجہ سراؤں کو مرکزی دھارے میں شامل کیے جانے کا کہا تھا۔

اوڈیشا میں تقریبا 20 ہزار خواجہ سرا آباد ہیں، ان میں سے دو سے ڈھائی ہزار تعلیم یافتہ ہیں

،تصویر کا ذریعہSUBRAT KUMAR PATI

،تصویر کا کیپشناوڈیشا میں تقریبا 20 ہزار خواجہ سرا آباد ہیں، ان میں سے دو سے ڈھائی ہزار تعلیم یافتہ ہیں

اس کے لیے خواجہ سراؤں کو سماج کے دیگر طبقوں کی طرح ملازمتوں کے کمیشن کے امتحان میں شامل ہو کر کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔

اوڈیشا کے آئی جی جیل خانہ جات ارون کمار رائے نے صحافی سبرت کمار پتی کو بتایا کہ اوڈیشا میں 90 جیلیں ہیں اور یہاں 250 وارڈن کی اسامیاں خالی ہیں۔

ان آسامیوں پر تقرری کے لیے خواجہ سرا درخواست دے سکتے ہیں جبکہ جسمانی فٹنس کے امتحانات کے لیے خواجہ سراؤں کو خواتین کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔

اوڈیشا میں تقریباً 20 ہزار خواجہ سرا آباد ہیں اور ان میں سے دو سے ڈھائی ہزار تعلیم یافتہ ہیں۔

ریاست میں معذور افراد کے لیے سوشل سکیورٹی اور بااختیار بنانے کے محکمے کی منصوبہ بندی کے سیکریٹری نتن چندرا نے بتایا:’اب ریاست میں خواجہ سراؤں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے عمل کی ابتدا ہوئی ہے۔‘

خواجہ سراؤں کو تقرری کے لیے امتحانات میں شامل ہونا ہوگا

،تصویر کا ذریعہSUBRAT KUMAR PATI

،تصویر کا کیپشنخواجہ سراؤں کو تقرری کے لیے امتحانات میں شامل ہونا ہوگا

خواجہ سراؤں نے بھی حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

دارالحکومت بھونیشور میں واقع خواجہ سرا سکیورٹی ٹرسٹ کی سربراہ مینکا نے ریاستی حکومت کے اس اقدام کی تعریف کی ہے۔

مینکا کا خیال ہے کہ اگر حکومت تعلیمی قابلیت میں خواجہ سراؤں کے لیے قدرے چھوٹ دے تو اس سے وہ زیادہ استفادہ کر سکتے ہیں۔