انڈین وزیرداخلہ کا دورۂ کشمیر، کرفیو میں نرمی

حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرداخلہ سنیچر کی صبح سرینگر کے ایئر پورٹ سے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر براہ راست گورنر نریندر ناتھ ووہرا کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے
،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرداخلہ سنیچر کی صبح سرینگر کے ایئر پورٹ سے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر براہ راست گورنر نریندر ناتھ ووہرا کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیں دو ہفتوں سے جاری کشیدگی سے نمٹنے کے لیے انڈین حکومت نے عوام سے رابطہ بحال کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔

اس حوالے سے انڈین وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سنیچر کو دور روزہ دورے پر سرینگر پہنچے ہیں۔ حکومت نے ان کی آمد پر بڈگام، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور گاندربل میں کرفیو ہٹانے کا اعلان کیا جبکہ سرینگر کی مضافاتی بستیوں میں ناکہ بندی کو نرم کردیا گیا۔

لیکن ان سبھی علاقوں میں موجود پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد بدستور تعینات رہے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نرمی کے باوجود چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی جاری رہے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ انڈین وزیرداخلہ سنیچر کی صبح سرینگر کے ایئر پورٹ سے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر براہ راست گورنر نریندر ناتھ ووہرا کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے جہاں انھوں نے پولیس، فوج، نیم فوجی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ افسروں کی موجودگی میں گورنر کے ساتھ موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

 راج ناتھ سنگھ کی آمد کے ساتھ ہی کئی علاقوں میں لوگوں نے مظاہرے کیے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن راج ناتھ سنگھ کی آمد کے ساتھ ہی کئی علاقوں میں لوگوں نے مظاہرے کیے

بعد میں وزیر داخلہ نہرو گیسٹ ہاوس پہنچے جہاں وہ حکمراں اتحاد پی ڈی پی اور بی جے پی کے وزرا اور اراکین اسمبلی سے مختلف مراحل میں دیر رات تک ملاقاتیں کریں گے۔

حکومت نے پہلے ہی نوجوان صنعت کاروں، تجارتی انجمنوں، ادیبوں، سماجی رضاکاروں، کالم نویسوں، تجزیہ نگاروں اور دوسرے نوآموز سیاسی گروپوں کو وزیرداخلہ سے ملاقات کے لیے مدعو کیا ہے۔ تاہم ہوم منسٹر سے ملاقات کے بارے میں اکثر حلقوں کو تحفظات ہیں۔

کشمیر میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سمیت سبھی تجارتی انجمنوں نے علی الاعلان کہا ہے کہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کے دوران ایسی ملاقات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

بعض علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی گئي ہے لیکن ان سبھی علاقوں میں موجود پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد بدستور تعینات رہے گی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبعض علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی گئي ہے لیکن ان سبھی علاقوں میں موجود پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بڑی تعداد بدستور تعینات رہے گی

چیمبرز آف کامرس کے ترجمان فیض بخشی نے ایک بیان میں کہا: ’ہمارے بچوں کی آنکھیں چھینی گئیں، 50 سے زائد کو ہلاک کیا گیا اور سینکڑوں ہسپتالوں میں پڑے ہیں۔ ایسے میں ہمارے پاس ایک ہی آپشن ہے اور وہ ہے احتجاج۔ لہِذا ہم ہوم منسٹر سے نہیں ملیں گے۔‘

بعض مقامی اخبارات نے اپنے ذرائع کا حوالہ دے کر انکشاف کیا ہے کہ راج ناتھ سنگھ علیحدگی پسند رہنماوں کو مذاکرات کی دعوت دیں گے۔ لیکن سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا براہ راست لہجہ ممکن نہیں ہے۔

حکمران پی ڈی پی کے ایک سینئر رہنما نے بی بی سی کوبتایا: ’ہم اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مالی پیکیج، روزگار کے وعدے یا دوسرے اقتصادی مرعات سے یہ مسلہ حل نہیں ہوگا۔ ہم ضرور چاہیں گے کہ ایک سیاسی پیکیج کا اعلان ہو، لیکن حکومت ہند کہتی ہے کہ وہ سب سے بات کرے گی۔ جب تک بات چیت کے عمل میں بنیادی کرداروں کا تعین نہیں ہوتا تب تک مذاکرات کی پیشکش کی امید نہیں کی جاسکتی۔‘

،تصویر کا ذریعہAP

دریں اثنا راج ناتھ سنگھ کی آمد کے ساتھ ہی کئی علاقوں میں لوگوں نے مظاہرے کیے اور ہندمخالف نعرے بازی کی، تاہم پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے ہوا میں فائرنگ کی اور آنسو گیس کے استعمال سے انھیں منتشر کیا۔

اس دوران حزب المجاہدین نے جنوبی کشمیر کے اکثر علاقوں میں پوسٹر چسپاں کیے ہیں جن پر برہان وانی کے بغیر 11 مسلح نوجوانوں کی تصویریں ہیں۔ پوسٹر میں ’جدوجہد جاری رکھنے‘ کا عزم کیا گیا ہے۔

اکثر سماجی تنظیموں نے بھی راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ یتیموں کی کفالت کر رہی ایک انجمن کے کارکن نے بتایا: ’دلّی والوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ آگ بجھانا چاہتے ہیں۔ وزیرداخلہ کمیٹی کا اعلان کریں گے۔ پھر کہیں گے کہ ہم پیلیٹ گن کے استعمال پر نظرثانی کریں گے۔ لوگوں کی بات سُنیں گے۔ بھلا یہ کبھی کوئی سیاسی پیشکش ہے۔‘

راج ناتھ سنگھ کے دورہ کا اعلان ہونے کے چند گھنٹے بعد جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقہ میں فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو ہلاک کردیا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنراج ناتھ سنگھ کے دورہ کا اعلان ہونے کے چند گھنٹے بعد جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقہ میں فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو ہلاک کردیا

مبصرین کہتے ہیں کہ ’بی جے پی فی الوقت علیحدگی پسندوں کو مذاکرات کی پیشکش کی متحمل نہیں ہوسکتی ، کیونکہ کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے اور مسلمانوں کو کوئی سیاسی رعایت دینے کا مطلب ہے کہ اترپردیش یا پنجاب کے انتخابات میں اپوزیشن کی تنقید مول لینا۔‘

اگر واقعی راج ناتھ کا دورہ بغیر کسی سیاسی پیکیج کے اختتام کو پہنچا تو حکمران پی ڈی پی کو عوامی ساکھ مزید خراب ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ راج ناتھ سنگھ کے دورہ کا اعلان ہونے کے چند گھنٹے بعد جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ علاقہ میں فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو ہلاک کردیا۔