کشمیر پر مودی کا ہنگامی اجلاس، پاکستان کی تشویش

کشمیر میں کرفیو بدستور جاری ہے اور مزید تین لوگ زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں کرفیو بدستور جاری ہے اور مزید تین لوگ زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوگئے ہیں

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جمعے سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 31 تک پہنچ گئی ہے جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے وادی میں پرتشدد واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

کشمیر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا ہے کہ پوری وادی میں منگل کو بھی کرفیو نافذ رہا اور مزید تین زخمیوں کی ہلاکت کے بعد جمعے سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 31 ہوگئی ہے جن میں سے ایک کے سوا تمام عام شہری ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے افریقی ممالک کے دورے سے واپسی پر منگل کو دارالحکومت دہلی میں کشمیر کی صورتحال پر ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی سمیت متعدد وزرا اور اعلی اہلکار شامل ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ریاستی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیراعظم کشمیر کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ریاست کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا، ’وزیر اعظم نے کشمیر کے حالات کا جائزہ لیا اور وہاں کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق انڈیا کی مرکزی حکومت اس پورے معاملے میں جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کے ردعمل سے خوش نہیں ہے اور اس بارے میں وزیر داخلہ جلد ہی ریاستی حکومت سے بات کریں گے۔

منگل کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے انڈین ہائی کمشنر گوتم بمباوالے کو طلب کیا اور پاکستان کی جانب سے کشمیر میں حالیہ کشیدگی اور ہلاکتوں پر ’شدید خدشات‘ کا اظہار کیا۔

اس سے قبل پیر کی شام امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور مسئلے کے پرامن حل پر زور دیا۔

انڈیا کے وزیر اعظم نے کشمیر معاملے پر اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کی ہے

،تصویر کا ذریعہPMOINDIA

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے وزیر اعظم نے کشمیر معاملے پر اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کی ہے

جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہرین اور انڈین فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش ہے اور وہ اس معاملے کے پر امن حل کے لیے فریقین سے مدد کی درخواست کرتا ہے۔

آٹھ جولائی سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے انڈیا کی حکومت نے پہلے ہی سیاسی حریفوں اور کشمیر میں سرگرم تمام سیاسی حلقوں سے تعاون کی درخواست کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انڈیا کا ہے اور اس معاملے پر انڈیا بہتر انداز میں بات کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ جمعہ کو وادی بھر میں مقبول نوجوان مسلح کمانڈر برہان وانی کی ایک مبینہ تصادم میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کی لہر پھیل گئی تھی۔