کشمیر ہلاکتوں کی تعداد 30، سیاسی حل کے لیے کوششیں

گذشتہ جمعہ کو وادی بھر میں مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کی ایک مبینہ تصادم میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے جاری رہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ جمعہ کو وادی بھر میں مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کی ایک مبینہ تصادم میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے جاری رہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آٹھ جولائی سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے انڈیا کی حکومت نے سیاسی حریفوں اور کشمیر میں سرگرم تمام سیاسی حلقوں سے تعاون کی درخواست کی ہے۔

تاہم علیحدگی پسندوں نے ان اپیلوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ نہتے مظاہرین پر فائرنگ کا سلسلہ اور عوامی اجتماعات پر پابندی کو فوراً بند کیا جائے تو حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ جمعہ کو وادی بھر میں مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کی ایک مبینہ تصادم میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کی لہر پھیل گئی۔

٭ <link type="page"><caption> کشمیر میں کشیدگی برقرار، ہلاکتوں کی تعداد 30 ہوگئی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/07/160711_kashmir_tesnse_death_toll_rise_mb" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> کشمیریوں کی ہلاکتیں ماورائے عدالت قتل ہیں: پاکستان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160710_pakistan_reaction_on_kashmir_tension_sr.shtml" platform="highweb"/></link>

سنیچر کو 21 سالہ برہان کے جنازے میں وادی بھر سے لوگوں نے شرکت کے لیے مارچ کیا تو مختلف مقامات پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس میں پیر کی دوپہر تک 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے جنوبی کشمیر کے سنگم علاقہ میں پولیس کی ایک گاڑی کو دھکیل کر دریا میں پھینک دیا، جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔

زخمیوں کی تعداد تین سو ہوگئی ہے جن میں سو پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل ہیں۔ اس دوران کرفیو جاری ہے اور انٹرنیٹ پر بدستور پابندی ہے۔

ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی کی حمایت یافتہ حکومت کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سنیچر کو کابینہ کا اجلاس طلب کر کے فورسز کو تلقین کی کہ وہ غیرمہلک طریقوں سے مظاہروں پر قابو پائیں۔

اس دوران کرفیو جاری ہے اور انٹرنیٹ پر بدستور پابندی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس دوران کرفیو جاری ہے اور انٹرنیٹ پر بدستور پابندی ہے

اجلاس کے بعد حکومت کے ترجمان اور حکمران پی ڈی پی کے سینیئر رہنما نعیم اختر نے تمام سیاسی حلقوں خاص طور پر حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ حالات کو بحال کرنے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

میر واعظ عمر، سید علی گیلانی اور یاسین ملک نے اس اپیل کے ردعمل میں کہا ہے کہ حالات خراب کرنے میں سرکاری فورسز کا بنیادی کردار ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت نے اگر جلوسوں کو روکنے اور نہتے مظاہرین پر فائرنگ کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا تو حالات مزید خراب ہوجائیں گے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔‘

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی انڈیا کی حزب مخالف کی جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی اور کشمیر میں اپوزیشن کے رہنما عمر عبداللہ کو ٹیلی فون کر کے ان سے تعاون کرنے کی درخواست کی ہے۔

عمر عبداللہ نے پہلے ہی یہ واضح کیا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سامنے آکر قیام امن کی کوششوں کی قیادت کریں تو وہ ہر تعاون کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے محبوبہ مفتی سے کہا کہ انہیں اپنے غیر منتخب ترجمان اور پولیس افسروں پر تکیہ کرنے کے بجائے لوگوں کے سامنے آنا چاہیے۔

پولیس کے ترجمان نے پیر کو بتایا کہ امرناتھ کی یاترا کو دو روز کی معطلی کے بعد بحال کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنپولیس کے ترجمان نے پیر کو بتایا کہ امرناتھ کی یاترا کو دو روز کی معطلی کے بعد بحال کیا گیا ہے

پیر کو جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں ٹیلیفون اور موبائل سروس بحال کی گئیں تاہم انٹرنیٹ پر بدستور پابندی ہے۔

ہندوؤں کی امرناتھ یاترا کے لیے کشمیر میں درماندہ 25 ہزار یاتریوں کو بھی کشمیر سے بحفاظت جموں کی طرف روانہ کیا گیا ہے۔

پولیس کے ترجمان نے پیر کو بتایا کہ امرناتھ کی یاترا کو دو روز کی معطلی کے بعد بحال کیا گیا ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ کشمیر میں ہلاکتوں اور زیادتیوں کے ماحول میں بات چیت کا عمل شروع نہیں ہوسکتا۔

کالم نویس اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ حکومت علیحدگی پسندوں سے مدد کیوں مانگ رہی ہے۔ جن رہنماؤں کو دو سال سے قید کیا گیا اور جمعہ کی نماز تک پڑھنے کی اجازت نہ دی گئی، وہ کس طرح بات چیت کا حصہ بنیں گے۔‘

بعض دیگر حلقوں کا کہنا ہے کہ نئی دلّی میں بی جے پی کی حکومت اور کشمیر میں اسی پارٹی کی حمایت یافتہ حکومت کو فی الوقت نظریاتی کشمکش کا سامنا ہے۔

بی جے پی قیادت کی دیرینہ پالیسی یہ رہی ہے کہ کشمیریوں سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن راج ناتھ سنگھ اور محبوبہ مفتی کی طرف سے نئے عمل کا آغاز اس پالیسی میں تغیر کا عندیہ دیتا ہے۔