کشمیر میں کشیدگی برقرار، ہلاکتیں 21 ہو گئیں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں جمعے کی شام علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے خلاف سرکاری فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 1621افراد ہلاک ہوگئے۔
پرتشدد واقعات میں ڈھائی سو افراد زخمی ہیں جن میں 90 سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل ہیں۔
کشیدگی پر قابو پانے کے لیے انڈین حکومت نے نیم فوجی اہلکاروں کی تازہ کُمک کو سرینگر بھیجا ہے۔ یہ اعلان حکومت ہند کے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے سنیچر کی رات کو کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں زخمیوں کی بھیڑ دیکھتے ہوئے اور موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کئے جانے سے کشمیر میں ایمرجنسی جیسی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔
وزیرداخلہ وزیراعلی محبوبہ مفتی کو فون پر بتایا: ’مرکز کشمیر میں حالات ٹھیک کرنے کے لیے آپ کی ہرممکن امداد کرے گا۔‘
راج ناتھ سنگھ اور دوسرے بی جے پی رہنماوں نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے، تاہم وادی میں ہند مخالف جذبات کی لہر تشویشناک سمت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق کشمیر وادی کے دس اضلاع میں فی الوقت دو لاکھ سے زائد بھارتی افواج، 70 ہزار نیم فوجی اور 60 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ سابق شدت پسندوں پر مبنی 25 ہزار ’سپیشل پولیس افسر‘ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
اسی بیچ آر ایس ایس کے رہنما اور کشمیر میں بی جے پی کی حمایت والے حکمران اتحاد کے مشیر رام مادھو نے اپیل کی ہے کہ مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ’نان لیتھل‘ یعنی غیر مہلک طریقے اپنائے جائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنیچر کو ہی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا غیرمتناسب استعمال کیا گیا۔
پولیس کی خفیہ ونگ کے سربراہ ایس ایم سہائے نے کہا تھا: ’ہم اپنے ہی معاشرے کے لوگوں کو نہیں مار سکتے۔‘
لیکن سنچیر کو اُن کی پریس کانفرنس کے وقت ہلاکتوں کی تعداد آٹھ تھی جبکہ اتوار کی دوپہر تک 16 سے زائد لوگ مارے جا چکے تھے۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
بغیر بارود والی چھوٹی گولیوں یا پیلیٹس کے استعمال کو ’نان لیتھل‘ طریقہ کے طور چھ سال قبل متعارف کیا گیا تھا۔ جنوبی کشمیر کے 40 ایسے نوجوان ہیں جن پر جمعہ کی رات سے اتوار کی دوپہر تک پیلیٹ فائر کیے گئے ہیں۔
شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے ڈاکڑوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کم از کم 20 ایسے ہیں جو بینائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔
دریں اثنا اتوار کو دوسرے روز بھی کشمیر میں کرفیو، ناکہ بندی، ہڑتال اور مظاہروں کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہے۔ حکام نے ہندوؤں کی امرناتھ یاترا کو بدستور معطل ہی رکھا ہے اور اضلاع کے درمیان اندرونی ٹرین سروس بھی بحال نہیں ہو سکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی رات کو جنوبی کشمیر کے دمحال ہانجی پورہ کے پولیس تھانے سے جو تین پولیس اہلکار لاپتہ ہوگئے تھے، ان کا ابھی تک سُراغ نہیں ملا ہے۔ چونکہ وادی میں سکولوں اور کالجوں میں 17 جولائی تک گرمیوں کی تعطیلات ہیں، تاہم تمام امتحانات اور سرکاری نوکریوں کے لیے مجوزہ امتحانات اور انٹرویوز کو پہلے ہی ملتوی کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جنوبی کشمیر کے اکثر علاقوں میں ٹیلیفون اور موبائل فون سہولات دو روز سے بند ہیں، جبکہ وادی بھر میں موبائل انٹرنیٹ دو روز سے معطل ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک کو سینٹر جیل میں قید کیا گیا ہے، جبکہ میرواعظ عمرفاروق، شبیر شاہ اور سید علی گیلانی سمیت درجنوں علیحدگی پسندوں کو گھروں میں نظربند کر دیا گیا ہے۔
حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے کشمیر کے حالات سے متعلق دہلی میں اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے جس میں فوج، نیم فوجی اداروں ،پولیس اور خفیہ اداروں کے اعلی افسران بھی شرکت کررہے ہیں۔
حریت کانفرنس کے مختلف دھڑوں کے رہنماوں نے مشترکہ طور پر اتوار اور پیر کو ہڑتال کی اپیل کی ہے اور لشکرطیبہ کے کشمیر چیف محمود شاہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حریت کانفرنس کے احتجاجی پروگرام پر عمل کریں۔
اتوار کو بھی جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع اننت ناگ ، کولگام، شوپیان اور پلوامہ میں لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی کوشش کی تاہم فورسز نے ان کا تعاقب کرکے انھیں منتشر کیا۔
اس دوران شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپوارہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں بھی مختلف مقامات پر مظاہرین اور فورسز کے مابین تصادم ہوئے، تاہم تازہ جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔







