کشمیر میں کشیدگی برقرار، ہلاکتوں کی تعداد 30 ہوگئی

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں نوجوان علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد جمعے کی شام سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے دوران مرنے والوں کی تعداد 30 ہوگئی ہے۔
ہلاک شدگان میں ایک پولیس اہلکار کے علاوہ دیگر تمام عام شہری ہیں۔
٭ <link type="page"><caption> کشمیر میں پرتشدد مظاہرے جاری (تصاویر)</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2016/07/160710_indian_kashmir_tension_pg_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> کشمیریوں کی ہلاکتیں ماورائے عدالت قتل ہیں: پاکستان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160710_pakistan_reaction_on_kashmir_tension_sr.shtml" platform="highweb"/></link>
پرتشدد واقعات میں 250 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں 90 سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
ریاستی حکومت کی جانب سے وادی میں امن برقرار رکھنے کی اپیل کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا ہے۔
حکومت نے پرتشدد واقعات پر قابو پانے کے لیے وادی میں مزید فوج تعینات کی ہے اور کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جبکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
مظاہرین اور پولیس کے درمیان تازہ تصادم کے نتیجے میں ہونے والی فائرنگ میں اتوار کو رات گئے مزید پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ مظاہروں میں زخمی ہونے والے پانچ افراد بھی اتوار کو دم توڑ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ ایک پولیس اہلکار اس وقت ہلاک ہوا جب اس کی گاڑی کو مشتعل ہجوم نے اننت ناگ میں دریائے جہلم میں گرا دیا۔
شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے 20 نوجوان داخل ہیں جو چھرّے لگنے کی وجہ سے بینائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی رات کو جنوبی کشمیر کے دمحال ہانجی پورہ کے پولیس تھانے سے جو تین پولیس اہلکار لاپتہ ہوگئے تھے، ان کا ابھی تک سُراغ نہیں ملا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
حکام نے علیحدگی پسند رہنماؤں کو بھی بدستور نظر بند کیا ہوا ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک سینٹرل جیل میں قید ہیں جبکہ میرواعظ عمرفاروق، شبیر شاہ اور سید علی گیلانی سمیت درجنوں علیحدگی پسندوں کو ان کے گھروں میں نظربند کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں زخمیوں کی تعداد کے پیش نظر اور موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بند کیے جانے سے کشمیر میں ایمرجنسی جیسی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔
کشیدگی پر قابو پانے کے لیے انڈین حکومت نے نیم فوجی اہلکاروں کی تازہ کُمک سرینگر بھیج ہے اور ان اہلکاروں کو مختلف حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی کو فون پر بتایا: ’مرکز کشمیر میں حالات ٹھیک کرنے کے لیے آپ کی ہرممکن امداد کرے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
راج ناتھ سنگھ اور دوسرے بی جے پی رہنماوں نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے، تاہم وادی میں ہند مخالف جذبات کی لہر تشویشناک سمت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق کشمیر وادی کے دس اضلاع میں فی الوقت دو لاکھ سے زائد بھارتی افواج، 70 ہزار نیم فوجی اور 60 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ سابق شدت پسندوں پر مبنی 25 ہزار ’سپیشل پولیس افسر‘ ہیں۔
اسی بیچ آر ایس ایس کے رہنما اور کشمیر میں بی جے پی کی حمایت والے حکمران اتحاد کے مشیر رام مادھو نے اپیل کی ہے کہ مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ’نان لیتھل‘ یعنی غیر مہلک طریقے اپنائے جائیں۔
سنیچر کو ہی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا غیرمتناسب استعمال کیا گیا۔
پولیس کی خفیہ ونگ کے سربراہ ایس ایم سہائے نے کہا تھا: ’ہم اپنے ہی معاشرے کے لوگوں کو نہیں مار سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP







