کشمیر میں پرتشدد مظاہرے جاری

انڈیا کے زیر انتظام کشیمر میں جھڑپوں کے بعد سے کئی اضلاع میں کرفیو نافذ ہے۔

جنوبی کشمیر کے بعد کرفیو نافذ ہے اور لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی کوشش کی تاہم فورسز نے ان کا تعاقب کرکے انھیں منتشر کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنوبی کشمیر کے بعد کرفیو نافذ ہے اور لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی کوشش کی تاہم فورسز نے ان کا تعاقب کرکے انھیں منتشر کیا۔
علاقے میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعلاقے میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
کشیدگی پر قابو پانے کے لیے انڈین حکومت نے نیم فوجی اہلکاروں کی تازہ کُمک کو سرینگر بھیجا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکشیدگی پر قابو پانے کے لیے انڈین حکومت نے نیم فوجی اہلکاروں کی تازہ کُمک کو سرینگر بھیجا ہے۔
جمعے کی شام سے شروع ہونے والے مظاہروں کے خلاف سرکاری فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 16 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجمعے کی شام سے شروع ہونے والے مظاہروں کے خلاف سرکاری فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 16 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشدگی برقرار ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشدگی برقرار ہے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق کشمیر وادی کے دس اضلاع میں فی الوقت دو لاکھ سے زائد بھارتی افواج، 70 ہزار نیم فوجی اور 60 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسرکاری اطلاعات کے مطابق کشمیر وادی کے دس اضلاع میں فی الوقت دو لاکھ سے زائد بھارتی افواج، 70 ہزار نیم فوجی اور 60 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
پرتشدد واقعات میں ڈھائی سو افراد زخمی ہیں جن میں 90 سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپرتشدد واقعات میں ڈھائی سو افراد زخمی ہیں جن میں 90 سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل ہیں۔