امریکہ کو کشمیر میں تشدد میں اضافے پر تشویش

جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انڈیا کا ہے اور اس معاملے پر انڈیا بہتر انداز میں بات کر سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجان کربی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انڈیا کا ہے اور اس معاملے پر انڈیا بہتر انداز میں بات کر سکتا ہے

امریکہ نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جمعے سے شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے بعد کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے یہ بات پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظاہرین اور انڈین فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش ہے اور وہ اس معاملے کے پر امن حل کے لیے فریقین سے مدد کی درخواست کرتا ہے۔

آٹھ جولائی سے جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے انڈیا کی حکومت نے پہلے ہی سیاسی حریفوں اور کشمیر میں سرگرم تمام سیاسی حلقوں سے تعاون کی درخواست کی ہے۔

برہان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی
،تصویر کا کیپشنبرہان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی

ایک سوال کے جواب میں جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انڈیا کا ہے اور اس معاملے پر انڈیا بہتر انداز میں بات کر سکتا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا تھا کہ انڈیا کشمیر میں نہتے لوگوں کا خون بہا رہا ہے اور اسے دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا تھا ’یہ ایک آزادی کی تحریک ہے جسے انڈیا دہشت گردی کی تحریک بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالانکہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ انڈیا کی طرف سے ریاستی دہشت گردی ہے۔‘

واضح رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ جمعہ کو وادی بھر میں مقبول نوجوان مسلح کمانڈر برہان وانی کی ایک مبینہ تصادم میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کی لہر پھیل گئی تھی۔